نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان صومالی قزاقوں کی قید میں موجود 10 پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کرے گا۔
لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی میری ٹائم قوانین کے پابند ہیں اور تاوان کی ادائیگی جیسے اقدامات قزاقوں کی مزید حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں صحافیوں اور پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے دورہ برطانیہ کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:صومالیہ بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے اسحاق ڈار کی سفارتی کوششیں تیز
انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران ان کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیوز اور کامن ویلتھ کے سیکریٹری جنرل سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں نئی بلندیوں پر لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔
تاوان کی ادائیگی عالمی قوانین کے منافی ہے
پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بحری قزاقی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں اور ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہے اور پاکستان بھی ان ہی اصولوں کی پیروی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ آپ اپنے لوگوں کی رہائی کے لیے نہ تو مذاکرات کرتے ہیں اور نہ ہی تاوان ادا کرتے ہیں، کیونکہ تاوان ملنے کے بعد قزاقوں کا فرار انہیں ایسے مزید واقعات دہرانے پر اکساتا ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خاص طور پر ان ممالک اور جہازوں کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے جن کے مالکان تاوان دینے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ہونے والی ملاقات بہت سود مند رہی ہے اور ہم نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک موثر حکمت عملی وضع کر لی ہے۔
ایم ٹی آنر 25 اور یرغمالی ملاح
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب صومالی قزاقوں نے رواں سال اپریل میں پلاؤ کے جھنڈے والے تیل بردار بحری جہاز ’ایم ٹی آنر 25‘ کو اغوا کر لیا تھا، جس پر 10 پاکستانی ملاح سوار تھے۔
مزید پڑھیں:بحری قزاقوں کی جانب سے یرغمال 11 پاکستانی شہریوں کی بازیابی کے لیے حکومتی کوششیں تیز
ان پاکستانیوں کے اہل خانہ حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملاحوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں، وہ قید میں خوراک کی انتہائی قلیل مقدار پر گزارا کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے جون میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ جہاز پر دھماکا خیز مواد لدے ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یرغمالیوں کی رہائی کا آپریشن ‘تھوڑا مشکل’ ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اسلام آباد نے صومالی حکومت اور جہاز کے مالک پر زور دیا ہے کہ جب تک مذاکرات جاری ہیں، یرغمالیوں کو خوراک، پینے کا پانی اور دیگر بنیادی سفری ضروریات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
ملاحوں کی محفوظ رہائی کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کوششیں مسلسل جاری ہیں۔












