صومالیہ بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے اسحاق ڈار کی سفارتی کوششیں تیز

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی شہریوں کی بحفاظت اور جلد رہائی کے لیے سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جمعرات کو انہوں نے اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں حکومتی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کیا ہدایات دی گئیں

دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں قریبی اور باقاعدہ رابطہ رکھیں اور صومالی حکام سمیت متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:صومالیہ کے وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال

اسحاق ڈار نے یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے پر مکمل طور پر متحرک اور چوکس ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل اور مربوط سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جلد مثبت پیش رفت سامنے آئے گی اور پاکستانی شہری بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔

واقعہ کیسے پیش آیا

اپریل 2026 میں صومالی قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر ‘ایم ٹی آنر۔25’ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کے 11 پاکستانی ارکان یرغمال بنا لیے گئے۔

پلاؤ کے پرچم بردار اس آئل ٹینکر کو 21 اپریل کو صومالیہ کے پنٹ لینڈ خطے کے قریب، ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل کے فاصلے پر اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 17 عملے کے ارکان سوار تھے جن میں 10 پاکستانی شامل ہیں۔

دفترِ خارجہ کی سابقہ بریفنگ میں کیا بتایا گیا

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 11 جون کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس معاملے پر صومالیہ کے وزیرِ خارجہ سے باضابطہ رابطہ کیا تھا، جنہوں نے یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ترجمان نے بتایا تھا کہ پاکستانی حکومت جہاز کے مالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے تاہم معاملے کی پیچیدہ نوعیت کے باعث پیش رفت اب تک محدود رہی ہے۔

طاہر اندرابی نے واضح کیا تھا کہ یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ یہ ایک نیم خودمختار قبائلی علاقے سے جڑا ہے جہاں متعدد فریق سرگرم ہیں، جس سے مذاکرات مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔

ان چیلنجز کے باوجود انہوں نے زور دیا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا تھا کہ اغوا کیے گئے جہاز پر دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی سوار تھے۔

سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم نے صومالی وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے میں نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر تمام یرغمالیوں کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری، معاملہ انتہائی پیچیدہ مگر حکومت متحرک ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اندرابی نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں تعینات صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ اس معاملے پر مربوط حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے دفترِ خارجہ میں بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp