خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کی جانب سے مبینہ طور پر معصوم شہریوں کے اغوا اور قتل کے واقعات کے بعد لوگوں کو اکسا کر احتجاج کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق، امن کمیٹی نے بنوں سے ایک شہری کو اغوا کیا اور بعدازاں اسے قتل کر دیا، جبکہ بعض عام شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد طالبان کے کارندوں کے حوالے کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود امن کمیٹی نے عام لوگوں کو احتجاج پر اکسانے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے یقین دہانی اور کارروائی کے نتیجے میں امن کمیٹی کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا، جس کے بعد شہریوں نے بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹی کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے اغوا اور قتل کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث امن کمیٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حکومتی حکام نے احتجاجی مظاہرین سے ملاقات کے دوران انہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ امن کمیٹی کے بعض ارکان مبینہ طور پر دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں اور امن دشمن عناصر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
حکومتی حکام کی جانب سے صورتِ حال کی وضاحت اور کارروائی کی یقین دہانی پر مظاہرین نے اعتماد کا اظہار کیا۔













