سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین انتظامی، کلینیکل اور ادارہ جاتی غفلت کا انکشاف کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور سربراہ نیونیٹولوجی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور سی سی ٹی وی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے ریسکیو کی بھرپور کوشش کی، تاہم ایمرجنسی ایگزٹس کا مقفل ہونا، مؤثر الارم سسٹم کا فقدان اور جولائی کی آگ سے سبق نہ سیکھنا وہ مجرمانہ غفلتیں ہیں جنہوں نے اس واقعے کو ایک ہلاکت خیز سانحے میں تبدیل کر دیا۔

 تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج واقعے کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد تصویر فراہم کرتی ہے۔ اس فوٹیج کے مطابق نرسری میں آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 15 سیکنڈ پر چارج نرس نسرین نرسری سے تیزی سے باہر نکلتی اور مدد طلب کرتی نظر آتی ہیں۔

تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 35 سیکنڈ پر نسرین اور سیکیورٹی گارڈ ماریا نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور وہاں آگ کے شعلوں کے عکس نظر آتے ہیں۔

اس کے بعد تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 56 سیکنڈ پر اسٹاف نرس رضیہ نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 4 سیکنڈ پر ایک بچے کو اٹھا کر باہر نکلتی ہیں، یوں وہ بچے کو بچانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رضیہ اس کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 12 سیکنڈ پر باہر آتے ہیں۔ تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 15 سیکنڈ تک کیمرہ 16 دھوئیں سے بڑی حد تک چھپ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملحقہ راہداری کا دروازہ تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 45 سیکنڈ پر کھولا گیا، جبکہ 6 بج کر 40 منٹ اور 8 سیکنڈ تک کیمرہ 12 بھی دھوئیں کی زد میں آ کر منظر دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

کمیٹی کے مطابق ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرسری کا ماحول تقریباً 2 منٹ کے اندر انتہائی تیزی سے تباہ کن صورتحال میں تبدیل ہو گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ آگ لگنے کا درست تکنیکی ذریعہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکا۔ مختلف بیانات میں آگ کی وجہ ‘اے سی’، ‘انکیوبیٹر یا وارمر’ یا ‘بجلی کے شارٹ سرکٹ’ اور پلگ پر اضافی لوڈ کو قرار دیا گیا ہے۔

آئیسکو کے ریکارڈ میں عین اس وقت بیرونی فیڈر کی خرابی یا ٹرپنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی بجلی کے نظام، ساکٹس، پلگز، وائرنگ اور منسلک آلات کی جانب ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی انکیوبیٹرز کی حال ہی میں سروسنگ کر کے انہیں کام کرنے کی حالت میں واپس کیا گیا تھا، تاہم اس ریکارڈ سے آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ سرکٹ کی برقی حفاظت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتی۔

کمیٹی کے مطابق اندرونی برقی یا آلات سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن کسی مخصوص آلے یا پرزے کو آگ لگنے کی حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ کا پہلا شعلہ کس ذریعے سے پیدا ہوا اور کن عوامل نے اسے بڑے پیمانے پر ہلاکت خیز واقعے میں تبدیل کیا، یہ دو الگ مگر باہم متعلق سوالات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب سی سی ٹی وی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موقع پر موجود طبی، نرسنگ اور سیکیورٹی  عملے نے فوری طور پر ریسکیو کی کوشش کی۔

چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، سیکیورٹی  گارڈ ماریا متاثرہ حصے میں داخل ہوئیں، اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان بھی متاثرہ علاقے میں موجود تھے۔

فرنٹ لائن طبی عملے کے ریسکیو کی کوشش

کمیٹی کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن طبی اور نرسنگ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انفرادی ریسکیو کوشش اور ادارہ جاتی سطح پر پیشگی تیاری کی ذمہ داری کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع پہنچنے میں ممکنہ خلا

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع پہنچنے میں ممکنہ خلا کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی میں ایمرجنسی تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ظاہر ہوتی ہے، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ریکارڈ کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈسپیچ 6 بج کر 55 منٹ پر ہوا اور سی ای ایس تقریباً 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچی۔ تاہم بعض دیگر شواہد میں اس سے پہلے کال کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔

کمیٹی نے فی الحال 16 منٹ کی تاخیر کو کسی مخصوص شخص یا ادارے سے منسوب نہیں کیا۔ اس مقصد کے لیے ٹیلی فون ریکارڈ، پمز کنٹرول روم کے ریکارڈ، سی ای ایس کال ریکارڈنگز اور سی سی ٹی وی کے اوقات کو ہم آہنگ کر کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ پہلی مؤثر کال کس نے، کب اور کہاں کی تھی۔

کمیٹی کے مطابق کال موصول ہونے کے بعد سی ای ایس کے ریکارڈ میں تقریباً 6 سے 7 منٹ میں موقع پر پہنچنے کا وقت موجود ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر زیادہ اہم سوال سی ای ایس کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد مبینہ تاخیر نہیں بلکہ اس سے پہلے پمز کے اندر آگ کی نشاندہی، صورتحال کو اوپر تک پہنچانے اور ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے کا نظام ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریسکیو اور انخلا کی کوششیں کی گئیں، تاہم اس وقت تک ایسے منظور شدہ، اطلاع کیے گئے، تربیت یافتہ اور عملی مشق سے گزارے گئے ‘ایم سی ایچ یا نرسری مخصوص فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ایس او پی’ کے شواہد سامنے نہیں آئے جو آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کے انخلا کا مکمل طریقہ کار واضح کرتے ہوں۔

پمز کے سیکیورٹی  ڈیپارٹمنٹ کے 27 مئی 2023 کے ایس او پی میں فائر سیفٹی کو ادارہ جاتی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایس او پی کے تحت سیکیورٹی  کو انفراسٹرکچر، آلات، مریضوں، وزٹرز اور عملے کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

اسی طرح اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی  کو فائر سیفٹی ایگزٹس کی دستیابی، فائر فائٹنگ آلات کی فعالیت اور متعلقہ عملے کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ پمز نے سانحے سے قبل خصوصی فائر سیفٹی تربیت کے لیے عملہ بھی نامزد کیا تھا۔

کمیٹی کے مطابق بنیادی سوال یہ نہیں کہ انتظامی سطح پر فائر رسک کو تسلیم کیا گیا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ذمہ داریاں اور دستیاب تربیت ایم سی ایچ اور نرسری میں حقیقی عملی تیاری میں کیوں تبدیل نہیں ہو سکیں۔

ہنگامی راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار ہونے کی نشاندہی

کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی جانب سے بھی رپورٹ کیا گیا کہ فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی اور متاثرہ حالت میں تھے۔ ایمرجنسی راستے یا فرار کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، سیکیورٹی  نے ابتدائی ریسپانس کے بعض پہلوؤں میں رکاوٹ ڈالی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔

سی ای ایس کے مطابق فائر فائٹرز کو بعض لاک شدہ فائر ایگزٹ دروازے اور دیگر راستے زبردستی کھولنے پڑے۔ کمیٹی نے تاہم کہا کہ ہر متعلقہ دروازے کی اصل حیثیت اور مقام کی تصدیق کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داری کسی مخصوص شخص پر عائد کرنے سے پہلے مکمل شواہد دستیاب ہوں۔

جولائی میں بھی پمز میں آگ لگی تھی، پہلے سے خامیوں کی نشاندہی ہوچکی تھی

رپورٹ میں 6 جولائی 2026 کو پمز کے فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق جولائی کے واقعے کی انکوائری میں پہلے ہی دھوئیں کی نشاندہی، خودکار الارم، ہنگامی وارننگ سسٹم، فائر ڈرلز، فائر سیفٹی انسپیکشن ریکارڈ اور سیکیورٹی  ریسپانس سمیت متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ، اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم اور وارننگ سسٹمز، ایمرجنسی لائٹنگ، واضح فرار کے راستے، فعال فائر ایکسٹنگوشرز، باقاعدہ ٹیسٹنگ، سالانہ برقی معائنوں اور تحریری ایمرجنسی رسپانس انتظامات کی سفارش کی گئی تھی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ جولائی کا واقعہ اگست کی آگ کی وجہ ثابت نہیں کرتا، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں فائر رسک اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا تھا اور ادارہ جاتی خامیوں کی باضابطہ نشاندہی پہلے ہی ہو چکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی کے واقعے کی انکوائری میں ریکارڈ رکھنے اور نگرانی کے نظام میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

کمیٹی کے مطابق 25 اگست 2026، یعنی نرسری میں مہلک آگ لگنے سے صرف ایک روز پہلے جولائی کے واقعے کی سابقہ انکوائری رپورٹ نظرثانی کے لیے واپس کی جا رہی تھی کیونکہ اس میں مقررہ شرائطِ کار کو مکمل طور پر حل نہیں کیا گیا تھا۔

کمیٹی نے کہا کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر جولائی کی انکوائری مکمل ہو جاتی تو نرسری کا سانحہ روکا جا سکتا تھا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کی آگ سے حاصل ہونے والے اسباق کو اصلاحی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ادارہ جاتی عمل دوسری آگ سے پہلے اطمینان بخش طور پر مکمل نہیں ہوا تھا۔

پمز انتظامیہ کی سطح پر ذمہ داری کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق موجودہ ریکارڈ میں انتظامی ذمہ داری کا سب سے واضح ابتدائی معاملہ پمز کے سیکیورٹی  اور فائر سیفٹی نظام سے سامنے آتا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ سیکیورٹی  ایس او پی میں فائر سیفٹی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات اور عملے کی تربیت سے متعلق واضح ذمہ داریاں مقرر تھیں، جنہیں سی ای ایس کی جانب سے رپورٹ کی گئی بند یا رکاوٹ زدہ ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر سیفٹی کی خامیوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کسی افسر کو صرف اس کے عہدے کی بنیاد پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ متعلقہ افسر کی مقررہ ذمہ داری، خامی سے اس کی واقفیت، اقدام کرنے کا اختیار اور موقع، کوتاہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حفاظتی خرابی کو ثابت کرنا ضروری ہے۔

بیلفورٹ سیکیورٹی  سروسز کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ کمپنی کے سیکیورٹی  اہلکار ایم سی ایچ میں تعینات تھے اور ان میں سے بعض نے ریسکیو، آگ بجھانے اور ہجوم یا راستوں کے انتظام میں حصہ بھی لیا۔

کمیٹی نے فی الحال یہ قرار نہیں دیا کہ بیلفورٹ نے آگ لگائی یا اس کے اہلکار عمومی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے تھے۔

تاہم پمز کو یہ تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ معاہدے کے مطابق تعیناتی برقرار تھی یا نہیں، ایم سی ایچ میں موجود اہلکاروں کو مطلوبہ فائر فائٹنگ تربیت حاصل تھی یا نہیں، مناسب فائر فائٹنگ آلات انہیں دستیاب تھے یا نہیں اور ان کا ردعمل معاہداتی ذمہ داریوں کے مطابق تھا یا نہیں۔

اگر کسی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے تو کمپنی کے خلاف معاہدے کے تحت شوکاز، جرمانے یا کٹوتیوں سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فوجداری تحقیقات کے لیے 3 اہم پہلو

کمیٹی نے ایسی صورتحال کی بھی نشاندہی کی ہے جو بادی النظر میں فوجداری تحقیقات کا تقاضا کر سکتی ہے۔ پہلا اہم معاملہ ایمرجنسی فائر ایگزٹس کا لاک یا رکاوٹ کا شکار ہونا ہے۔

اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ متعلقہ دروازے لازمی ایمرجنسی ایگزٹس تھے اور ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غفلت کے باعث انہیں فوری استعمال کے لیے دستیاب نہیں رکھا، اور اس کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا، تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا۔

دوسرا معاملہ جولائی کی آگ کے بعد پہلے سے معلوم حفاظتی خامیوں پر کارروائی نہ کرنا ہے۔ اگر شواہد سے ثابت ہوا کہ متعلقہ افسران کو ان خامیوں کا علم تھا، ان کے پاس کارروائی کا اختیار اور مناسب موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے بغیر جواز معلوم حفاظتی خطرات کو دور نہیں کیا اور بعد میں انہی کا سانحے میں مادی کردار سامنے آیا تو یہ فوجداری تحقیقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

تیسرا معاملہ ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے میں ممکنہ تاخیر ہے۔ تاہم اس حوالے سے موجودہ ریکارڈ میں تضاد موجود ہے، اس لیے ٹیلی فون ریکارڈ، کنٹرول روم لاگز، سی ای ایس کال ریکارڈز اور سی سی ٹی وی ٹائمنگ کی مزید جانچ کے بعد ہی کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔

سیکیورٹی  کمپنی کی ذمہ داری کا الگ جائزہ

کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ انتظامی، محکمانہ اور فوجداری کارروائیوں کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے۔ کسی سرکاری ذمہ داری کی عدم ادائیگی ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے، اور سیکیورٹی  کمپنی کی معاہداتی خلاف ورزی ثابت ہونے پر معاہداتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے جرم کے عناصر اور موت سے غفلت کے قانونی طور پر قابلِ قبول تعلق کا ثابت ہونا ضروری ہے۔

فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ بعض حفاظتی اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار نہیں کر سکتے۔

پمز کو فوری طور پر ایک جامع اور ترجیحاً آزاد تکنیکی ماہرین کے ذریعے پورے اسپتال کا فائر، لائف سیفٹی اور برقی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا آغاز این آئی سی یو یا نرسری، آئی سی یوز، آپریشن تھیٹرز اور دیگر حساس مقامات سے کیا جائے۔

اسموک اور ہیٹ ڈیٹیکشن، الارم سسٹم، فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، ایمرجنسی لائٹس، برقی حفاظتی نظام اور تمام فائر ایگزٹس کا عملی معائنہ اور ٹیسٹنگ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی اور ایچ وی اے سی سسٹمز، ساکٹس، پلگز، ڈسٹری بیوشن بورڈز، بریکرز، ارتھنگ اور دیگر اہم برقی نظاموں کی بھی فوری تکنیکی جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے عملی فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش بھی کی ہے، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں، سیکیورٹی  اور انجینئرنگ عملہ شامل ہو۔

اسی طرح ایسا واضح اور آزمودہ ایمرجنسی نوٹیفکیشن اور کمانڈ پروٹوکول فوری نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت آگ کی اطلاع ملتے ہی اندرونی الارم، مقررہ ریسپانڈرز کی طلبی اور سی ای ایس یا ریسکیو 1122 کو براہ راست اطلاع ایک ساتھ فعال ہو جائے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے عبوری نتیجے کے مطابق اس مرحلے پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر واضح طور پر سامنے آئی اور انتہائی تیزی سے پھیلی، جس کے باعث تقریباً دو منٹ کے اندر نرسری دھوئیں سے بھر گئی۔

کمیٹی نے کہا کہ طبی، نرسنگ اور سیکیورٹی  عملے نے فوری طور پر ریسکیو کی کوششیں کیں اور سی سی ٹی وی شواہد اس عمومی مؤقف کی تائید نہیں کرتے کہ فرنٹ لائن طبی عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

تاہم آگ لگنے کی اصل تکنیکی وجہ تاحال حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور یہ طے کرنا باقی ہے کہ انکیوبیٹر، وارمر، اے سی، پلگ، ساکٹ، وائرنگ یا کوئی اور جزو آگ کا سبب بنا۔

ادارہ جاتی سطح پر البتہ فائر اور لائف سیفٹی کی تیاری، ایمرجنسی ایگزٹس اور رسائی، ایمرجنسی اطلاع رسانی، انخلا کی منصوبہ بندی، فائر فائٹنگ انتظامات، سیکیورٹی  کوآرڈی نیشن اور پہلے سے مقرر ذمہ داریوں کو عملی تیاری میں تبدیل نہ کرنے کے حوالے سے سنگین خامیاں بادی النظر میں سامنے آئی ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ ان خامیوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پمز میں صرف سات ہفتے قبل ایک اور آگ لگ چکی تھی اور اس وقت بھی اسی نوعیت کے حفاظتی انتظامات میں خامیوں کی باضابطہ نشاندہی کی گئی تھی۔

3 سطحوں پر انتظامی اور عملی ناکامیوں کی نشاندہی

کمیٹی نے عبوری رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کم از کم 3  سطحوں پر سنگین انتظامی اور عملی ناکامیاں سامنے آئی ہیں۔

طبی اور کلینیکل سطح کی بات کی جائے تو تمام نومولود بچے ایم سی ایچ کے نیونیٹولوجی یونٹ کے زیر انتظام نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ میں تھے۔ انکوائری کے دوران ڈیوٹی روسٹر کے مقابلے میں بعض متعلقہ اہلکاروں کی ڈیوٹی پر موجودگی کم پائی گئی۔

کمیٹی کے مطابق یونٹ کے سربراہ کی واضح ذمہ داری ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور متعلقہ طبی عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں۔

اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ نیونیٹولوجی، اور ڈاکٹر نغمہ، سینئر رجسٹرار نیونیٹولوجی کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ایم سی ایچ اور نرسری میں اس وقت تعینات دیگر عملے کی حقیقی جسمانی موجودگی سے متعلق مزید حقائق حتمی رپورٹ میں پیش کیے جائیں گے۔

انتظامی اور عملی سطح کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق جولائی 2026 میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے بعد اسپتال انتظامیہ پر لازم تھا کہ وہ مریضوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرتی۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ انتظامیہ نے مطلوبہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور فائر سیفٹی ڈرلز، فائر فائٹنگ آلات کی مکمل فعالیت، تفصیلی ایس او پیز اور واقعے سے نمٹنے کے نظام سمیت ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈاکٹر مطہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ، چوہدری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز، اور ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔

متعلقہ بیرونی اداروں کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری عمارات، بالخصوص پمز جیسے ایسے ادارے جہاں روزانہ اور 24 گھنٹے بڑی تعداد میں عوام آتے ہیں، میں فائر سیفٹی کے نظام کی دیکھ بھال اور عملدرآمد میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا بھی اہم کردار ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 کے واقعے کے باوجود سی ای ایس پمز میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے نظام کی ادارہ جاتی خامیوں کا مناسب ادراک کرنے میں ناکام رہی اور فائر ڈرلز، پروٹوکولز اور ایس او پیز کے لیے مؤثر دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

کمیٹی نے اس ناکامی کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالرحمان، ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، سی ڈی اے، کو معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔

محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی ، کو بغیر اجازت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے اور فرائض میں غفلت کے الزام میں معطل کر کے کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ رپورٹ میں بیلفورٹ سیکیورٹی  کو بھی معاہدے کے مطابق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

حتمی ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ دستیاب شواہد سے سانحے کے بنیادی حقائق بڑی حد تک سامنے آ چکے ہیں، تاہم بعض معاملات میں مزید تحقیقات اور شواہد درکار ہیں تاکہ ذمہ داری کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر طے کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اصل سوال صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ آگ کس چیز سے لگی، بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ آگ کو تباہ کن بننے کی اجازت کن عوامل نے دی، کون سے حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے یا مؤثر نہیں تھے، ان خامیوں کے بارے میں کس کو پہلے سے علم تھا، ان کی ذمہ داری کس پر تھی اور آیا کسی قابلِ شناخت کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا۔

کمیٹی نے کہا کہ انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین جامع حتمی رپورٹ کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم جہاں انتظامی یا معاہدے کے مطابق کوتاہی پہلے ہی شواہد سے ظاہر ہو چکی ہے وہاں فوری کارروائی اور مریضوں کی حفاظت کے اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار کیے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو کی سابق آسٹرین شہزادی سے شادی کی خبریں گرم، صدر زرداری بھی ویانا پہنچ گئے

پمز سانحہ: سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچوں کو بچانے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ہاکی نیشنز کپ 2026: پاکستان انڈر 21 کی بیلاروس کو 1-4 سے شکست، ٹورنامنٹ میں پہلی شاندار فتح

پاک انگلینڈ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو بڑی غلطی ہے، اسپورٹس صحافیوں کا ردعمل

بھارتی جیلوں سے رہائی کے بعد 25 پاکستانی ماہی گیر واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے

ویڈیو

پاک انگلینڈ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو بڑی غلطی ہے، اسپورٹس صحافیوں کا ردعمل

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں