خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں، جبکہ صوبے میں حکومت کی رٹ بھی انتہائی کمزور ہو گئی ہے۔
جنوبی ضلع بنوں میں امن پولیس کمیٹی بھی مبینہ طور پر اغوا اور قتل کے واقعات میں ملوث نکلی ہے اور عام شہریوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق امن پولیس کمیٹی کے سامنے صوبائی حکومت بھی بے بس دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امن پولیس کمیٹی کے ارکان اتنے بااثر ہو گئے ہیں کہ اہم سرکاری حکام کی سیکیورٹی بھی روک دی گئی ہے، جبکہ عام شہریوں کو اغوا کرکے طالبان کے حوالے کرنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بنوں سے 90 لاکھ روپے تاوان کے لیے اغوا کیے گئے ایک شہری کو امن کمیٹی کے ارکان نے مبینہ طور پر قتل کر دیا، جس کے خلاف مقامی افراد سراپا احتجاج ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کے باوجود وزیراعلیٰ امن کمیٹی کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی بنیادوں پر امن کمیٹی کی مبینہ حمایت کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنوبی اضلاع بالخصوص بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں حکومتی رٹ انتہائی کمزور ہو گئی ہے، جبکہ رات کے وقت امن کمیٹی کے نام پر مبینہ طور پر دہشتگردوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق صوبائی حکومت جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کررہی، جس کی وجہ سے مقامی افراد عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق مقامی پولیس بھی امن کمیٹی کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔













