بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے 25 پاکستانی ماہی گیر ہفتے کے روز واہگہ اٹاری سرحد کے ذریعے پاکستان واپس پہنچ گئے۔
پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کے مطابق 25 پاکستانی ماہی گیروں نے امیگریشن کے ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد دوپہر کے وقت واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخلہ لیا، جہاں انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔
پاکستانی مشن کے حکام نے وطن واپسی کے عمل میں سہولت فراہم کی اور سرحد پر موجود رہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے کہاکہ حکومت پاکستان بھارتی جیلوں میں قید تمام پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
رہائی پانے والے ماہی گیروں کی واپسی پر فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی (ایف سی ایس) نے بھی ماہی گیر برادری کو مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے مطابق رہائی پانے والے 25 پاکستانی ماہی گیر کراچی اور ٹھٹھہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی نے امید ظاہر کی کہ رہائی پانے والے ماہی گیر اپنے گھروں اور اہل خانہ کے پاس واپس پہنچ کر معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرسکیں گے۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کے ترجمان غلام رسول شیخ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ وطن واپسی کے بعد 25 ماہی گیروں کو پنجاب رینجرز کے حوالے کردیا گیا۔
پاکستانی اور بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی، نیشنل فش ورکرز فورم انڈیا، پاکستان فشر فوک فورم اور قید ماہی گیروں کے اہل خانہ نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کو خط لکھ کر دونوں ممالک کی جیلوں میں قید ان تمام افراد کی فوری رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا تھا جن کی سزائیں مکمل ہوچکی ہیں اور متعلقہ حکومتوں نے ان کی قومیت کی تصدیق کردی ہے۔
خط میں دونوں حکومتوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر قیدیوں کی رہائی کے ذریعے انسانیت، انصاف اور عام شہریوں کے وقار کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کریں۔
پاکستان نے 97 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا
رپورٹ کے مطابق یکم جولائی کو پاکستان نے بھارت سے ایسے 97 پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا تھا جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کرلی تھیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان قیدیوں میں 33 ماہی گیر بھی شامل تھے۔
یہ مطالبہ دونوں ممالک کے درمیان 2008 کے قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کے موقع پر سامنے آیا تھا۔
معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔













