یورپی یونین نے چیٹ جی پی ٹی، ریڈٹ اور روبلوکس کو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت سخت قواعد و ضوابط کا پابند کردیا۔
یورپی کمیشن کے مطابق تینوں پلیٹ فارمز کے یورپی یونین میں ماہانہ اوسط صارفین کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جس کے بعد ان پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اضافی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں:ڈیپ سیک یا چیٹ جی پی ٹی، مصنوعی ذہانت کا کون سا ماڈل بہتر ہے؟
نئے قواعد کے تحت پلیٹ فارمز کو غیر قانونی مواد، بچوں اور کم عمر افراد کے تحفظ اور صارفین کی ذہنی صحت سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی، ان کا جائزہ لینے اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیٹ جی پی ٹی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ سروس بن گئی ہے جسے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ صارفین کی تیار کردہ مواد پر مبنی گیمنگ پلیٹ فارم روبلوکس اور آن لائن کمیونٹی پلیٹ فارم ریڈٹ کو ’انتہائی بڑے آن لائن پلیٹ فارمز‘ کے زمرے میں شامل کرلیا گیا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی ملکیت رکھنے والی کمپنی اوپن اے آئی کو یورپی یونین کے مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین کی پابندی بھی کرنا ہوگی۔
مزید پڑھیں:گوگل جیمنی کی اے آئی تصاویر سے نمایاں واٹر مارک ہٹانے کی سہولت متعارف کرا سکتا ہے
یورپی یونین نے حالیہ برسوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی سخت کردی ہے۔ اس سے قبل ٹک ٹاک کو بھی خبردار کیا جاچکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو مسلسل متوجہ رکھنے والے ڈیزائن میں تبدیلی کرے، بصورت دیگر اسے یورپی یونین میں پابندی کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔














