ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے پر عوامی ناراضی نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور کردیا ہے۔

رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

یہ مسلسل تیسرا سروے ہے جس میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

موجودہ شرح ان کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہونے والی 47 فیصد منظوری کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔

صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے ممکنہ سیاسی بوجھ قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات کے حوالے سے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

سروے میں 46 فیصد ڈیموکریٹس نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 31 فیصد رہی۔

آزاد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے اگر کانگریس کے انتخابات آج ہوں تو 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی کارکردگی: 59 فیصد امریکیوں نے عدم اطمینان ظاہر کردیا

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات ہیں۔

سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

مزید پڑھیں: واشنگٹن میں 250ویں یومِ آزادی کی تقریب، ٹرمپ کا مخالفت کے باوجود خطاب

روزمرہ اخراجات کے معاملے پر عوامی ناراضی اس سے بھی زیادہ واضح ہے، تقریباً 71 فیصد امریکی شہریوں نے کہا کہ وہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔

حیران کن طور پر ان میں تقریباً 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، معاشی پالیسی کے میدان میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے بعد ریپبلکنز پر برتری حاصل کی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ سے سروے میں رجسٹرڈ ووٹرز مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کو معیشت کے حوالے سے بہتر خیالات رکھنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ کے لیے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز مانگ لیے

تقریباً ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹس نے اس معاملے پر ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑا ہے۔

رائٹرزاور اِپسوس کا 4 روزہ سروے ملک بھر میں 1,167 بالغ امریکیوں سے کیا گیا، جس میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کا ممکنہ فرق موجود ہے۔

سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو مہنگائی، جنگ اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp