پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس ابتدائی منٹوں میں 400 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بج کر 45 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 468.65 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد اضافے کے بعد 177,444.32 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
کاروبار کے آغاز پر آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔
انڈیکس پر بھاری اثر رکھنے والے متعدد حصص بھی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے، جن میں حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، فوجی فرٹیلائزر، حبیب بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک شامل ہیں۔
PSX Opened Negative 👇
☀️ KSE 100 opened negative by -373.23 points this morning. Current index is at 177,323.28 points (9:45 AM) pic.twitter.com/jpWC1DmGzg— Investify Pakistan (@investifypk) August 31, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث دباؤ دیکھا گیا تھا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 720.83 پوائنٹس یعنی 0.41 فیصد کمی کے بعد 176,975.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی منگل کو مالیاتی منڈیوں میں محتاط رجحان برقرار رہا، مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس سے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈ مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح منافع میں بھی اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 20 ماہ کی بلند ترین سطح 4.78 فیصد کے قریب پہنچ گئی، جبکہ جاپان کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 3 فیصد کی سطح کے قریب پہنچ گئی، جو کئی دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا کے رواں ہفتے جاری ہونے والے روزگار کے اعدادوشمار پر بھی مرکوز ہے، جنہیں امریکی شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بلند عالمی تیل قیمتیں اور امریکا، ایران کشیدگی افراط زر کے خدشات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ایشیائی مارکیٹس میں جاپان کا نکی ابتدائی کاروبار میں 0.2 فیصد جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.7 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔













