نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی،  ہزاروں تاحال لاپتہ

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال اور چین کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق منگل کے روز نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 987 تک پہنچ گئی، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے تبت کے علاقے میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس سے بدھ کے روز آنے والی اس آفت میں جاں بحق افراد کی کل تعداد 1,003 ہو گئی ہے۔

ساتویں روز بھی امدادی کارروائیوں کے جاری رہنے اور مزید لاشیں ملنے کے بعد نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3,916 رہ گئی ہے۔ دوسری جانب چین میں سرکاری ذرائع کے مطابق 546 افراد لاپتہ ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 4,462 ہو چکی ہے۔

نیپال میں لاپتہ افراد میں 30 سے زائد ممالک کے 583 غیر ملکی سیاح اور شہری شامل ہیں، جبکہ چین میں 23 ممالک کے 261 غیر ملکی لاپتہ ہیں۔

یہ بھی پڑھ لیں نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

نئی دہلی کے مطابق لاپتہ غیر ملکیوں میں بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جن میں 275 بھارتی شہری اور 128 بھارتی نژاد افراد نیپال میں لاپتہ ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 85 امریکی شہری بھی لاپتہ ہیں، جبکہ سیاحتی بورڈ اور سفارت خانوں کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد میں 62 یوکرینی، 51 ملائیشین، 42 آسٹریلین اور 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیپال سے بہنے والے دریاؤں سے 17 لاشیں برآمد کی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ اسی سیلاب کے متاثرین ہیں۔ بھارتی حکام ان کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں اور فی الحال انہیں سرکاری ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

‘یہ کوئی عام سیلاب نہیں تھا’

دریں اثنا، نیپال کے وزیراعظم بالیندرا شاہ نے کہا ہے کہ ہمالیہ کے خطے میں آنے والا یہ مہلک سیلاب کوئی عام واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، اور انہوں نے اس پر بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شاہ نے کہا ’رسووا میں بھوٹے کوشی ندی میں آنے والا سیلاب کوئی عام سیلاب نہیں تھا۔ یہ ہمالیائی خطے میں برف کے طوفان اور گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والی خطے کی بڑی ترین آفتوں میں سے ایک تھا۔‘

اگرچہ اس گلیشیئر کے ٹوٹنے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، تاہم ماحولیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے اس نوعیت کی قدرتی آفات کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عالمگیر درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ دنیا کے سب سے بلند پہاڑی سلسلے، ہمالیہ کی برف پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا ’یہ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ہمالیائی خطے میں ہمارے درپیش خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے اس خطے کو مسلسل الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے باعث لاحق ہونے والی ان آفات کے معاملے کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں۔‘

یہ بھی پڑھیے ’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

3 کروڑ آبادی پر مشتمل زراعت پیشہ ملک نیپال گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں انتہائی معمولی حصہ دار ہے، جس کا بڑا ذمہ دار امیر اور صنعتی ممالک کو ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن نیپال اس کے بدترین نتائج بھگت رہا ہے۔ ہمالیہ اور ہندو کش کے گلیشیئرز پہاڑی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 24 کروڑ افراد کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں، جبکہ اس کے نیچے واقع جنوب ایشیائی اور جنوب مشرقی ایشیائی وادیوں میں 1.65 ارب افراد کا انحصار بھی انہی پر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے 2023 میں نیپال کے دورے کے دوران خبردار کیا تھا کہ ہمالیائی خطہ تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز سے نبرد آزما ہے اور ’دنیا کی چھتیں بیٹھ رہی ہیں‘۔ بدھ کے سانحے کے بعد اقوام متحدہ کے کلائمیٹ چیف سائمن اسٹیل نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی دردناک یاد دہانی ہے کہ یہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کتنا نازک ہو چکا ہے۔

دور دراز علاقوں تک رسائی اور بجلی کی بحالی

سیلاب کے تقریباً ایک ہفتے بعد، نیپالی امدادی ٹیموں نے دور دراز کے علاقوں تک پہنچنے کے لیے عارضی پل تعمیر کر لیے ہیں اور ہمالیہ میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ملبے سے 300 کے قریب پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکال لیا ہے۔

تباہ شدہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز میں اب بھی تقریباً 600 افراد پھنسے ہوئے ہیں جو امدادی کارروائیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شاہ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 11,000 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے اور متعدد علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام بحال کر دیا گیا ہے۔ شدید متاثرہ ضلع نوواکوٹ تک سڑکوں کا رابطہ بحال کر دیا گیا ہے جس سے امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی ہو رہی ہے۔

پولیس اہلکار بپن ریگمی نے بتایا کہ سرچ ٹیم نے نوواکوٹ کے گاؤں بترا بتی میں ایک مکان سے 24 لاشیں برآمد کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں نئے علاقوں تک پہنچ رہی ہیں اور مزید لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعظم شاہ کے مطابق سانحے کے بعد ملک کو 42 ملین ڈالر سے زائد کی بین الاقوامی امداد موصول ہو چکی ہے اور امدادی رقم میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ویمنز ایشیا کپ کے لیے تیار، جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا عزم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: عمران خان کی بشریٰ بی بی و اہلخانہ سے ملاقات، بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کا حکم

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی اہم کامیابی ہے، سرفراز بگٹی

چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

ایس سی او سربراہ اجلاس، اسحاق ڈار کی روسی اور تاجک وزرائے خارجہ سے خوشگوار ملاقات

ویڈیو

پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے، وزیراعظم شہباز شریف

گھر میں پودے لگائیں، کچرا بیچیں، پنجاب حکومت سے ہزاروں روپے حاصل کریں

لانگ مارچ کے لیے چندہ اصل میں عوام کے جیبوں پر ڈاکا ہے، پشاور کے شہری حکومت پر برس پڑے

کالم / تجزیہ

خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!