لندن کی سڑکوں پر ڈرائیور کے بغیر ٹیکسیاں، اوبر نے روبوٹیکسی سروس شروع کردی

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں خودکار گاڑیوں کے دور کا آغاز ہوگیا، جہاں اوبر نے لندن میں پہلی روبوٹیکسی سروس شروع کردی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں صرف 15 خودکار گاڑیوں کو سڑکوں پر چلانے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم فی الحال ہر گاڑی میں ایک انسانی سیفٹی ڈرائیور موجود ہوگا جو ہنگامی صورت حال میں کنٹرول سنبھال سکے گا۔

اوبر کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ سروس لندن کے صارفین کو عام اوبر کی طرح ایپ کے ذریعے دستیاب ہوگی۔ روبوٹیکسی کا کرایہ بھی فی الحال عام اوبرٹیکسی سروس کے برابر رکھا گیا ہے، جبکہ سفر بک ہونے کے بعد ہی صارف کو خودکار گاڑی کا آپشن دکھائی دے گا، بشرطیکہ قریب کوئی روبوٹیکسی موجود ہو۔

بی بی سی کے مطابق ایک صحافی نے لندن میں بطور صارف پہلی مرتبہ روبوٹیکسی میں سفر کیا۔ ابتدائی سفر کے دوران گاڑی نے مصروف سڑکوں، ٹریفک سگنلز اور سڑکوں پر جاری تعمیراتی کاموں کو خودکار نظام کے ذریعے کامیابی سے عبور کیا۔

وین کا دروازہ کھلا تو سیفٹی ڈرائیور نے کنٹرول سنبھال لیا

سفر کے دوران ایک موقع پر سڑک کے کنارے کھڑی وین کا پچھلا دروازہ اچانک کھلنے لگا تو روبوٹیکسی نے فوری بریک لگائی اور اندر موجود سیفٹی ڈرائیور نے اسٹیئرنگ سنبھال لیا۔ ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی وےوے کے مطابق گاڑی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اس صورت حال سے خود بھی نمٹ سکتا تھا، تاہم ڈرائیور نے احتیاطاً مداخلت کی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں پہلی بار الیکٹرک ایئر ٹیکسی کے آزمائشی آپریشن کا آغاز

روبوٹیکسی میں فورڈ مستنگ کی برقی گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں، جن میں برطانوی کمپنی وےوے کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرائیونگ ٹیکنالوجی نصب ہے۔ یہ نظام گاڑی کے گرد موجود حالات کا سینسرز کے ذریعے حقیقی وقت میں تجزیہ کرکے خود فیصلہ کرتا ہے کہ کس طرح آگے بڑھنا ہے۔

اوبر کا کہنا ہے کہ روبوٹیکسی سروس کو آئندہ کئی برسوں کے دوران مرحلہ وار بڑھایا جائے گا اور انسانی ڈرائیور بھی طویل عرصے تک اوبر کے نظام کا حصہ رہیں گے۔

دوسری جانب برطانیہ میں مکمل طور پر ڈرائیور کے بغیر ٹیکسی سروس کے حوالے سے حفاظتی خدشات برقرار ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خودکار گاڑیوں کی سروس سخت حفاظتی جانچ، ضابطہ جاتی منظوری اور مقامی اجازت کے بعد ہی وسیع پیمانے پر شروع کی جائے گی۔ دوسری کمپنیاں، جن میں گوگل کی وے مو اور چینی کمپنی بائیڈو شامل ہیں، بھی برطانیہ میں روبوٹیکسی سروس شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp