عالمی رہنما مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات، بڑھتے ہوئے مالی بحران اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خطرات کے سائے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری سالانہ شرکت پر بھی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔
اقوام متحدہ کو اس وقت شدید مالی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی فنڈنگ میں کٹوتتی اور متعدد اداروں سے علیحدگی کے بعد عالمی ادارے کی افادیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، چینی صدر شی جن پنگ جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے بجائے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
World leaders return to UN amid wars in Middle East and Ukraine https://t.co/nU30AEKbFW
— The Straits Times (@straits_times) September 20, 2026
اس کے علاوہ، سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدتِ ملازمت رواں سال کے آخر میں ختم ہو رہی ہے، لیکن ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے تاحال کوئی واضح امیدوار سامنے نہیں آ سکا ہے۔
اجلاس کا ایک اہم موضوع مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔ سیکریٹری جنرل گوتریس نے اس ٹیکنالوجی کے بے لگام فروغ کو عالمی سطح پر تباہ کن قرار دیتے ہوئے مشترکہ ضابطہ کار بنانے پر زور دیا ہے، جب کہ صدر ٹرمپ نے اس مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور یوکرین جنگ بھی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں شپنگ کے خطرات نے عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار نیویارک روانہ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق خودارادیت کا مقدمہ اجاگر کریں گے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کا امکان ہے۔ دریں اثنا، یوکرین جنگ کے 4 سال مکمل ہونے کے باوجود سلامتی کونسل روس کے ویٹو کی وجہ سے کوئی مؤثر قدم اٹھانے سے قاصر ہے، جبکہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔














