سندھ میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 39 فیصد، تعلیمی نظام پر سوالات اٹھنے لگے

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ میں اسکول جانے کی عمر کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی نظام سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، جو صوبے کے تعلیمی نظام اور بچوں تک تعلیم کی رسائی سے متعلق ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اسکول سے باہر بچوں کی شرح اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سندھ میں تعلیم کے شعبے میں سرکاری سطح پر ہونے والے اخراجات کے باوجود بڑی تعداد میں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں تعلیمی بحران: 6 ہزار 220 مخدوش اسکول، 70 لاکھ بچے اسکول سے باہر، جعلی بھرتیوں کا انکشاف

صورتحال نہ صرف تعلیمی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ موجودہ نظام کی کارکردگی اور اس کے ثمرات پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق بچوں کے اسکول سے باہر رہنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں غربت، والدین کی کم آمدنی، بچوں سے مشقت، اسکولوں کی عدم دستیابی، دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات کا فقدان اور لڑکیوں کے لیے مناسب تعلیمی ماحول کی کمی شامل ہیں۔

صوبے کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ مسائل مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں، سندھ میں بڑی تعداد میں ایسے بچے بھی موجود ہیں جو کبھی اسکول گئے ہی نہیں، جبکہ کچھ بچے داخلے کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پاتے۔

مزید پڑھیں: سندھ کے عوام کے لیے خوشخبری، وفاقی حکومت نے معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے بڑے فیصلے کرلیے

اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، عمارتوں کی خراب حالت اور تعلیمی معیار سے متعلق مسائل بھی بچوں کے اسکول سے دور ہونے کی اہم وجوہات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ تعلیم پر سرکاری وسائل خرچ ہونے کے باوجود اگر اسکول جانے کی عمر کے 39 فیصد بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں تو اس سے پالیسیوں کے نفاذ، وسائل کے درست استعمال اور تعلیمی

سہولیات کی مؤثر فراہمی کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے صرف نئے اسکول تعمیر کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ بچوں کو اسکول میں لانے اور انہیں تعلیم جاری رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

اس مقصد کے لیے غریب خاندانوں کی معاونت، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی دستیابی اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو اسکول سے باہر بچوں کی ضلعی اور تحصیل کی سطح پر نشاندہی کرکے ان کے لیے مخصوص داخلہ مہم اور معاون پروگرام شروع کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں: ’کتاب اور گلاب چرانے کو کبھی چوری نہیں سمجھا‘، وزیر تعلیم سندھ کا دلچسپ انکشاف

ساتھ ہی اسکول چھوڑنے والے بچوں کی وجوہات کا جائزہ لے کر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جاسکے۔

سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 39 فیصد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا محض ایک تعلیمی اعداد و شمار نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ تعلیم پر خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں بچے اسکول سے باہر کیوں ہیں، اور اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ذمہ دار ادارے کب مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات کریں گے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے قبل علی امین گنڈاپور بیمار پڑ گئے، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

وزیراعظم شہباز شریف کی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری منصوبے میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب تحقیقات تیز

آئندہ ایک ہفتے کے دوران 4 لانگ مارچ :  جڑواں شہروں کی سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے و مارکٹیں بند رکھنے کا فیصلہ

بھارت میں پاکستان کا خوف برقرار، کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار

ویڈیو

پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے، شرکا تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

’میری بیٹی زندہ اور گھر میں موجود ہے‘، پمز آتشزدگی میں بچ جانے والی نومولود کے والد نے انتقال کی تردید کردی

ہنر سیکھنے کا سفر، بلوچستان کی خواتین مفت بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں

کالم / تجزیہ

قاتل لکھاری

سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

آپ کا سب سے بڑا مخالف آپ خود ہیں