خیبر پختونخوا میں پسماندگی، بدامنی کے واقعات کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر انتشاری سیاست کے الزامات

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی اہلیت اور طرزِ حکمرانی پر عوام اور مخالفین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان پر پولیس سے محاذ آرائی اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

 عوامی رائے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ صوبائی چیف ایگزیکٹو مبینہ طور پر انتشار کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں۔

سیاسی مخالفین کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات اور وائرل ویڈیوز کے بعد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے منصب کے انتخاب پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

مخالفین کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہ اعلیٰ عہدہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کے بجائے مبینہ طور پر پرتشدد مظاہروں، پولیس پر حملوں، آنسو گیس کے استعمال اور پروپیگنڈا مہم جیسی سرگرمیوں میں تجربے کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لندن پلان 2.0کی تیاری، پیپلز پارٹی سرگرم، علی امین میدان میں، سہیل آفریدی پر کرپشن کے الزامات

سیاسی حلقوں میں ان کے ظاہری رویے اور سیاسی قد کاٹھ کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اعلیٰ منصب کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔

ریاست کے ساتھ محاذ آرائی کا الزام

عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ صوبائی چیف ایگزیکٹو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی کے بجائے ریاست کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں۔

مخالفین کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کا طرزِ عمل ایک منتظم کے بجائے مبینہ طور پر ایک شرپسند جیسا ہے، جو صوبے کے امن و امان کی صورتحال کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

صوبے کے گھمبیر مسائل اور عوامی محرومی

یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگردی، بدامنی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے فقدان کے ساتھ ساتھ شہری صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔ ان ابتر حالات میں ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ قیادت کروڑوں پختونوں کی حقیقی نمائندگی کا حق رکھتی ہے؟

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی چیلنجز اور معاشی بحران کی زد میں ہے۔ سال 2026 میں بھی صوبے کو کئی انتظامی چیلنجز درپیش ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمہوری اصولوں کے مطابق صوبائی حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرے۔

تاہم موجودہ قیادت کے مبینہ جارحانہ طرزِ عمل سے سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے صوبے کے عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp