روس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان اب بھی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان اور افریقہ کے بعض علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
یہ اجلاس 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔ روسی مندوب نے کہا کہ مختلف خطوں کے درمیان غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور ایک علاقے میں حاصل ہونے والے جنگی تجربے کو دوسرے علاقوں تک منتقل کرنے کا چیلنج اب بھی حل نہیں کیا جا سکا۔
نماینده روسیه در سازمان ملل: داعش خراسان همچنان تهدیدی جدی است pic.twitter.com/FclMFyP4Sq
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) September 12, 2026
واسیلی نیبنزیا نے دہشتگرد گروہوں کے طریقہ کار میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈے، مالی معاونت اور حملوں کی منصوبہ بندی و رابطہ کاری کے لیے نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی نیٹ ورکس کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے ان خطرات کو سرحدوں سے ماورا قرار دیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
روسی مندوب نے کہا کہ داعش خراسان نے گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں کئی مہلک حملے کیے ہیں اور افغانستان سے باہر بھی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد امام بارگاہ حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت داعش خراسان کے 5 دہشتگرد پشاور میں مقابلے میں ہلاک
انہوں نے 22 مارچ 2024 کو ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر ہونے والے دہشتگرد حملے کو بھی نمایاں مثال قرار دیا، جس میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
روسی نمائندے کے مطابق ایسے واقعات نے عالمی سطح پر اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشتگردی کو دوسرے ممالک تک منتقل کرنے کا مرکز بن سکتا ہے۔














