ضلع پونچھ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باعث کئی تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ پونچھ کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو دھمکیاں دے رہی ہے جبکہ طلبہ کو بھی اسکول جانے سے روکا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایکشن کمیٹی کے کارکن اسکول کھولنے والے سربراہان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور سرکاری ملازمین کو بھی تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث بعض علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تحصیل ہجیرہ اور عباسپور میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ تحصیل راولاکوٹ اور تھوراڑ میں دھرنوں، ناکہ بندی اور راستوں کی بندش کے باعث تعلیمی نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’میرا اسکول کھولا جائے‘، راولاکوٹ کی کمسن طالبہ کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام جذباتی خط وائرل
انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ شہر اور گردونواح میں سکیورٹی خدشات کے باعث 41 تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں، جن کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کیا جارہا ہے۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دیگر علاقوں میں اسکول بند رکھنے کے حوالے سے حکومت یا محکمہ تعلیم کی جانب سے کوئی تحریری یا زبانی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کو متاثر کرنا قابل تشویش ہے۔ ترجمان کے مطابق ٹیوشن سینٹرز کبھی اسکول اور کالج کا متبادل نہیں ہوسکتے، اس لیے بچوں کو باقاعدہ تعلیمی اداروں سے دور رکھنا ان کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے مستقبل اور تعلیم کو ترجیح دی جائے اور انہیں اسکول جانے سے روکنے والے اقدامات کا حصہ نہ بنیں۔














