سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے 27 ستمبر سے پہلے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت کو اپوزیشن کو سیاسی گنجائش دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال جانے کی اجازت، بشریٰ بی بی کو ریلیف اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں مناسب جگہ دی جائے تو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث دراصل اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی سے جڑی ہوئی ہے، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ معاملہ انتظامی اصلاحات کے بجائے شناخت کی بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو لاہور اور فیصل آباد میں کیا کرنے جارہی ہے؟
انہوں نے کہاکہ اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ملک میں تین تجاویز زیر بحث ہیں، جن میں مشرف دور کے بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ دینا، انتظامی یونٹس قائم کرکے ڈویژنز کو اختیارات دینا اور نئے صوبے بنانا شامل ہے۔
فواد چوہدری نے کہاکہ مالی اختیارات کی منتقلی مقامی حکومتوں کے ذریعے ممکن ہے، لیکن سیاسی اور انتظامی اختیارات کی حقیقی منتقلی موجودہ نظام میں مشکل ہے۔ اگر انتظامی افسر کی تعیناتی کا اختیار بدستور وزیراعلیٰ کے پاس رہے تو اسے حقیقی اختیارات کی منتقلی نہیں کہا جا سکتا۔
’نواز شریف اور زرداری خاندان موجودہ نظام میں تبدیلی نہیں چاہتے‘
سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ نواز شریف اور آصف زرداری دونوں خاندان موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی کے حق میں نہیں، کیونکہ پنجاب اور سندھ کے وسائل پر انہی خاندانوں کا غلبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے دونوں بڑے اتحادی صوبوں کے حوالے سے زیر بحث تجاویز پر مکمل طور پر متفق نہیں، جبکہ نظریاتی طور پر تحریک انصاف اس معاملے کی حمایت کر سکتی ہے، لیکن عمران خان جیل میں ہیں اور تحریک انصاف بھی دیگر وجوہات کی بنا پر اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
فواد چوہدری نے کہاکہ بعض سیاسی جماعتوں نے نئے صوبوں کے معاملے کو شناخت کا مسئلہ بنا دیا ہے، جس کے باعث اصل بحث اختیارات کی منتقلی کے بجائے شناخت کی طرف چلی گئی ہے اور معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
’حکومت کے پاس بڑھتی مہنگائی اور معاشی بحران کا کوئی جواب نہیں‘
27 ستمبر کو تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت کے لیے اصل چیلنج تحریک انصاف کی طاقت نہیں بلکہ حکومت کی اپنی کمزوری ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس اس وقت کوئی واضح معاشی منصوبہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا اور مزید اضافے کا خدشہ ہے، حکومت اس کا مؤثر جواب دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہاکہ بھارت اور بنگلہ دیش نے موجودہ بحران میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا، لیکن پاکستان کی حکومت ایسا کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث معاشی مشکلات مزید بڑھیں گی۔ پنجاب میں غربت کی شرح 16 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اکتوبر میں گندم کی کاشت کے وقت ڈیزل کی قیمت 400 سے 500 روپے تک پہنچ گئی تو عام کسان کے لیے اس لاگت کو برداشت کرنا مشکل ہوگا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ایک طرف معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لندن جا کر خریداری کررہی ہیں، جس سے عوام کے ساتھ ان کا تعلق مزید کمزور ہوا ہے۔
’15 سے 25 ہزار افراد بھی حکومت کے لیے مشکل بن سکتے ہیں‘
فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت تحریک انصاف کو اپنے لیے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتی اور اسے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کا معاملہ قرار دے رہی ہے، لیکن صورتحال اتنی سادہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو لاکھوں افراد سڑکوں پر لانے کی ضرورت نہیں، اگر 15، 20 یا 25 ہزار افراد بھی نکل آئیں تو انہیں سنبھالنا حکومت کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
فواد چوہدری نے حکومت کو مشورہ دیا کہ 27 ستمبر سے پہلے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپوزیشن کو کچھ سیاسی گنجائش دی جائے۔ ان کے مطابق عمران خان کو اسپتال جانے کی اجازت، بشریٰ بی بی کو ریلیف اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں مناسب جگہ دی جائے تو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت ایک طرف شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے، دوسری جانب صوبوں کا بحران بھی موجود ہے، اس لیے مزید سیاسی محاذ آرائی حالات کو پیچیدہ کرے گی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ کمزوری کے باعث اس کی پارلیمانی سیاست مؤثر نہیں رہی اور پارٹی کو تنظیمی طور پر نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق ایسے میں نئی اپوزیشن صف بندی کی بات کی جا سکتی ہے، تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی ضمانت کون دے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں ضمانت کسی فرد کی نہیں بلکہ طریقہ کار کی ہوتی ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بھی سیاسی ضمانت دراصل ایک طے شدہ طریقہ کار اور سیاسی بندوبست سے جڑی ہوتی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر سیاست دانوں کے ساتھ ماضی میں مذاکرات اور میز پر طے پانے والے معاملات بھی اسی سیاسی طریقہ کار کی مثال ہیں۔
ان کے مطابق کوئی بھی سیاسی عمل محض کسی شخص کی ضمانت سے نہیں بلکہ طے شدہ طریقہ کار سے کامیاب یا ناکام ہوتا ہے۔
اہلیہ کے کاکڑ خاندان سے تعلق کی وضاحت
فواد چوہدری نے اپنی اہلیہ کے کاکڑ خاندان سے تعلق کے حوالے سے کہا کہ وہ بنیادی طور پر کاکڑ خاندان سے ہی تعلق رکھتی ہیں، تاہم ان کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ ان کا ننھیال کوئٹہ میں ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر اختلافات، اراکین اور قیادت کے تحفظات کیا ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کوئٹہ میں اپنے ماموں کے پاس گزارا، اسی وجہ سے ان کے بلوچستان سے تعلق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے، تاہم بنیادی طور پر اب ان کا تعلق لاہور سے ہے۔










