بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کی جانب سے نصاب میں کی جانے والی تبدیلیاں ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئیں ، جہاں نویں جماعت کی نئی معاشرتی علوم کی کتاب میں ہندو مذہبی روایات کو قدیم دور کے حکمرانوں کی جنگوں اور مزاحمت کے واقعات سے جوڑا گیا ہے۔ اور کئی بادشاہوں کو دیویوں سے تلوار حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ، این سی ای آر ٹی، کی نئی کتاب Understanding Society: India and Beyond – Part 2
میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں کالی، درگا اور بھوانی سمیت مختلف دیویوں کی پوجا قدیم روایت رہی ہے اور متعدد حکمران جنگوں کے دوران ’شکتی‘ کے مختلف روپوں کو محافظ کے طور پر پکارتے تھے۔ یہ کتاب نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے 6 ماہ بعد 29 ستمبر کو جاری کی گئی ۔
اپنی کتاب کے Resistance and Resilience کے عنوان سے منسوب باب میں بتایا گیا ہے کہ بستر کے حکمران انّماراجا کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ انہیں اپنی تلوار مانکیہ دیوی، یعنی دانتیشوری، سے ملی تھی۔
وجے نگر سلطنت کے کمارا کمپنا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مدورائی میں سلطنت دہلی کے فوجی دستوں کے خلاف دیوی سے ملی ہوئی تلوار استعمال کی تھی۔
مراٹھا حکمران شیواجی کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ کہ انہیں تلوار دیوی تلجا بھوانی سے ملی تھی۔ اس باب میں میں ساتویں صدی کے بعد برصغیر میں ہونے والی مسلسل یلغاروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اگرچہ کتاب میں ان واقعات کے لیے ’ believed ‘ ( مانا جاتا ہے ) اور ’ traditionally believed‘(روایتی طور پر مانا جاتا ہے ) جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، تاہم نصابی کتاب میں ایسی مذہبی روایات کو تاریخی جنگوں کے بیان کے ساتھ شامل کیے جانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

حالیہ تبدیلیوں پہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی داستانوں اور تاریخی طور پر قابلِ تصدیق شواہد کے درمیان فرق طلبہ کے لیے واضح رہنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب ایسی روایات کو حکمرانوں کی جنگی تاریخ اور مزاحمت کے واقعات کے ساتھ پیش کیا جائے۔
نئی کتاب میں برصغیر کو ساتویں صدی کے بعد مختلف بیرونی یلغاروں کا سامنا کرنے والے خطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف ادوار کے حکمرانوں اور برادریوں کی جانب سے ان حملہ آور قوتوں کے خلاف مزاحمت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
حالیہ نصابی تبدیلیوں پر تنقید کرنے والے حلقوں اور ماہرین تعلیم کا مؤقف ہے کہ تاریخ کو ایک مخصوص نظریاتی زاویے سے پیش کرنے سے بھارت کے کثیر مذہبی، ثقافتی اور تاریخی پس منظر کے دیگر پہلو کم نمایاں ہوسکتے ہیں۔
ناقدین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مسلم حکمرانوں سے متعلق تاریخی ادوار کو اگر زیادہ تر یلغار، مذہبی کشمکش اور مزاحمت کے تناظر میں پیش کیا جائے تو اس سے طلبہ میں تاریخ کی فرقہ وارانہ تشریح کو تقویت مل سکتی ہے۔
این سی ای آر ٹی کی نصابی تبدیلیوں پر یہ بحث نئی نہیں، تاہم تازہ کتاب میں مذہبی روایات، جنگی واقعات اور قومی تاریخ کو ایک ساتھ پیش کیے جانے کے بعد ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور اسکولوں میں تاریخ کی تدریس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
نئی کتاب نے بھارت میں تاریخ کے نصاب کے حوالے سے جاری اس وسیع بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ مذہبی روایات اور تاریخی واقعات کو کس طرح پیش کیا جائے اور ملک کی متنوع اور مشترکہ تاریخی وراثت کے مختلف پہلوؤں کو نصابی مواد میں کس حد تک جگہ دی جائے۔









