پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور پشاور سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے قافلے 9 اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان صوابی پہنچیں گے اور تب تک صوابی میں بیٹھیں گے جب تک وفاق خود کنٹینرز اور کیلیں ہٹا کر روڈ نہیں کھولتا۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں شاندانہ گلزار نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنا قافلہ لے کر 9 اکتوبر تک صوابی پہنچیں گے، جبکہ ملاکنڈ، ہزارہ اور پشاور ڈویژن کے قافلے بھی 9 اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان پہنچیں گے۔ ’ہمارا پشاور کا قافلہ 11 اکتوبر کو پہنچے گا۔‘
ہم اپنے گھر دشمن کو بھی بلا کرکہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جرگہ کرو۔ یہ بدمعاشی کرتے ہیں، دھمکاتے ہیں کہ اپنا مارچ بند کرو تو بات کریں گے۔ ہم نے آپ کو 6 ہفتے دیے تھے، آپ کا مخالف جس کی جیب میں آپ کی طرح چوری کا پیسہ نہیں ہے آپ اسے نیچا دکھاتے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، شاندانہ گلزار خان
@ShandanaGulzar— WE News (@WENewsPk) October 7, 2026
’صوابی میں بیٹھیں گے، کنٹینرز کو ہاتھ تک نہیں لگائیں گے‘
شاندانہ گلزار نے پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان کی منزل اسلام آباد ہے اور لکی مروت سے لانگ مارچ کا قافلہ لے کر اسلام آباد کے لیے ہی نکلے ہیں۔ ’ہماری منزل اسلام آباد ہے، ہم نے اسلام آباد جانا ہے لیکن پُرامن رہ کر۔‘
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت راستوں کو بند کررہی ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا اس بار راستے کھول کر آگے جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ ’ہم صوابی میں بیٹھیں گے، روڈ کو کھولنے کے لیے کنٹینرز اور کیلوں کو ہاتھ تک نہیں لگائیں گے۔‘
شاندانہ گلزار نے کہاکہ وہ تب تک بیٹھیں گے جب تک وفاق خود رکاوٹیں ہٹا کر روڈ نہیں کھولتا اور ہمارے اسلام آباد جانے کا خیرمقدم نہیں کرتا۔ ’احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، اور ہم کریں گے، یہ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے۔‘
’11 اکتوبر تک بہت وقت ہے، مذاکرات ہو سکتے ہیں‘
رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے کہاکہ پشتون معاشرے میں جرگے کو خاص اہمیت حاصل ہے اور وہ ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دیتی ہیں، لیکن مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کن شرائط پر ہوں گے۔ ’عمران خان سے ملاقات تو کرادیں، ان کی مشاورت اور ہدایت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اگر وفاقی حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اب بھی وقت ہے اور مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ’11 اکتوبر تک ہم صوابی پہنچیں گے، تب تک کافی وقت ہے اور حکومت چاہے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔‘
شاندانہ گلزار نے کہاکہ وہ پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے۔ ’پاک فوج ہماری ہے، پولیس ہماری ہے، ہمیں اپنے شہیدوں پر فخر ہے۔‘









