معروف بھارتی اداکار اور فلم ساز نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ دل کا شدید دورہ قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دل کو خون فراہم کرنے والی اہم شریان میں خون کا لوتھڑا جم جانے کے باعث ان کی موت ہوئی۔ نانا پاٹیکر 8 اکتوبر 2026 کو 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نانا پاٹیکر نے موت سے 2 روز پہلے کیا کہا تھا؟ آخری گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئیں
بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق گوا میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کے نتائج سے آگاہ کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دل کی شریانوں کی بیماری کے باعث خون کی روانی متاثر ہوئی اور بائیں مرکزی کورونری شریان میں خون کا لوتھڑا جمنے سے دل کو خون کی فراہمی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔
رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر کی طبیعت گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر اچانک خراب ہوئی، جس کے بعد ان کے نگراں نے نجی اسپتال سے ایمبولینس طلب کی۔
اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے دل کے دورے کا شبہ ظاہر کیا۔ طبی عملے نے انہیں بچانے کے لیے تقریباً 45 منٹ تک قلبی و تنفسی بحالی کی کوششیں کیں، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ انہیں 8 اکتوبر کی صبح 5 بج کر 10 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے گوا میڈیکل کالج اینڈ اسپتال منتقل کیا گیا۔
دل کے دورے کی عام علامات کیا ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق دل کے دورے کی عام علامات میں سینے میں درد یا دباؤ، بازوؤں، کمر، گردن یا جبڑے میں تکلیف، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈے پسینے آنا، غیرمعمولی تھکاوٹ، چکر آنا اور متلی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 35 روپے ماہانہ سے کروڑوں کے اثاثوں تک: نانا پاٹیکر کی جدوجہد، کامیابی اور سادہ زندگی کی داستان
دل کے دورے کی علامات ہر شخص میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ خواتین میں سانس پھولنے، غیرمعمولی تھکاوٹ اور کمر یا جبڑے میں درد جیسی علامات نمایاں ہوسکتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں بعض اوقات دل کا دورہ واضح علامات کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔
دل کے دورے کی علامات ظاہر ہوں تو کیا کریں؟
سینے میں اچانک دباؤ یا درد، سانس لینے میں دشواری یا دل کے دورے کی دیگر مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایسی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، بروقت طبی امداد زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔








