ملتان کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں قائم ہمدرد یتیم خانے میں مقیم 15 سالہ وسیم عباس کے مبینہ قتل کے واقعے نے یتیم بچوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ فلاحی اداروں کی نگرانی اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعے کی خبریں سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد یتیم خانے کی انتظامیہ نے میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ دوسری جانب، علاقے کے رہائشیوں نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور ایسے فلاحی اداروں کی مؤثر نگرانی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہمدرد یتیم خانہ مبینہ طور پر ’ادارہ خودی‘ کے نام سے سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے اور اسے ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس واقعے کے بعد ادارے کے انتظامی امور، بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں ہنر سیکھنے یا مزدوری کے لیے ادارے سے باہر بھیجنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ ان معاملات پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔
ماڈل ٹاؤن کے رہائشی محمد عاصم سلیم نے کہا کہ ہمارے ہاں عموماً کسی سانحے کے رونما ہونے کے بعد ہی متعلقہ ادارے حرکت میں آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یتیم خانے میں زیرِ کفالت کسی بچے کو مزدوری کے لیے باہر بھیجنا سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسے اداروں کی بروقت نگرانی اور باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا تو شاید اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی تھی۔
محمد عاصم سلیم نے مزید کہا کہ مذکورہ یتیم خانہ ان کے پڑوس میں قائم ہے، لیکن اس کے باوجود وہ خود بھی ادارے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلاحی اداروں کی رجسٹریشن، انتظامی امور اور بچوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، جبکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اسی علاقے کے رہائشی توقیر رسول نے کہا کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وسیم عباس کو کام سیکھنے کے لیے باہر بھیجنے کا اصل مقصد کیا تھا۔ تاہم، ان کے بقول بچے کے ورثا اسے مزدوری کروانے کے لیے یتیم خانے نہیں لائے تھے۔
انہوں نے بچے کو گاڑی تلے کچلنے کے واقعے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یتیم خانوں کو حکومت اور مخیر حضرات کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، اس کے باوجود کسی زیرِ کفالت بچے کو کام کے لیے باہر بھیجنا قابلِ مذمت ہے۔
توقیر رسول نے مزید کہا کہ اس معاملے میں یتیم خانے کی انتظامیہ، بچے کو وہاں بھیجنے والے اس کے نانا اور بچے پر مبینہ ظلم کرنے والے ٹھیکیدار سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ان کی ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔
سماجی کارکن شہزاد عمران نے کہا کہ فلاحی اداروں کے قیام اور انہیں چلانے کے لیے متعلقہ محکموں سے منظوری حاصل کرنا اور مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ایسے اداروں میں بچوں کی صحت، سیکیورٹی اور فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یتیم خانے کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ اس کے زیرِ انتظام مزید کتنے ادارے کام کر رہے ہیں اور ان میں زیرِ کفالت بچوں کو کس نوعیت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
شہزاد عمران نے کہا کہ اگر کسی بچے کو غیرقانونی طور پر مزدوری کے لیے بھیجا جائے یا اس سے ممنوعہ نوعیت کا کام لیا جائے تو ذمہ داروں کے خلاف متعلقہ لیبر قوانین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل کیا جانا چاہیے کہ وسیم عباس کو کس کی اجازت سے اور کن انتظامات کے تحت یتیم خانے سے باہر بھیجا گیا تھا۔
علاقے کے ایک اور رہائشی شاہد نذیر نے کہا کہ مقتول بچے کے نانا نے اسے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے یتیم خانے میں داخل کرایا تھا۔ ان کے مطابق بچے کو مزدوری یا کام سیکھنے کے لیے ادارے سے باہر نہیں بھیجا جانا چاہیے تھا، کیونکہ اس کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال کی بنیادی ذمہ داری یتیم خانے کی انتظامیہ پر عائد ہوتی تھی۔
شہری حافظ احمد نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد ملتان میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام فلاحی اداروں کی رجسٹریشن اور ان کے انتظامی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، جبکہ مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے رجسٹرڈ اداروں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دریں اثنا، واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کے دوران یتیم خانے کے وائس چیئرمین سید شعیب جعفری کو ضابطہ کار کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم، واقعے کی مکمل تحقیقات اور اس میں ملوث یا ذمہ دار افراد کے کردار کا حتمی تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
وسیم عباس کی ہلاکت نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم، کفالت اور تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے اداروں میں ان بچوں کی سلامتی اور حقوق کی نگرانی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
اس سوال کا جواب محض گرفتاریوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے فلاحی اداروں کی شفاف اور مؤثر نگرانی، بچوں کے تحفظ کے مضبوط نظام اور غفلت کے ذمہ دار افراد کے احتساب کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔









