خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاست میں ایک نیا محاذ اس وقت کھل گیا ہے، جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ہی ماضی کے اتحادیوں کے خلاف سیاسی، پارلیمانی اور قانونی سطح پر مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق یہ صوبے میں سیاسی مستقبل کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کا دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو معدنیات پر قبضے سے جوڑنا حقائق کے منافی کیوں؟
مولانا فضل الرحمان اپنے ماضی کے اتحادیوں کے خلاف اس وقت سامنے آئے ہیں، جب وفاق میں حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو معطل کرکے 13 سال بعد صوبے میں اقتدار حاصل کیا ہے۔
ماضی کے اتحادی اب آمنے سامنے
مولانا فضل الرحمان ان سیاسی رہنماؤں میں شامل رہے ہیں جنہوں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران اہم سیاسی کردار ادا کیا تھا۔
2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہوئی، جس کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی وفاقی حکومت میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں شامل تھیں۔
تاہم اب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کا مؤقف اپنے سابق اتحادیوں سے مختلف ہے۔
جے یو آئی کو نقصان یا مستقبل میں سیاسی فائدہ؟
مولانا کی جماعت 2008 کے بعد سے خیبر پختونخوا میں اقتدار سے دور ہے اور حالیہ انتظامی تبدیلی سے بھی جے یو آئی کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔
مولانا کی جماعت کے ایک رہنما کے مطابق جے یو آئی اس تبدیلی کو مستقبل میں اپنے لیے سیاسی نقصان سمجھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے صرف 2 بڑی جماعتوں کو فائدہ پہنچا ہے اور اقتدار و اختیار ملنے کے بعد اگر سیاسی فائدہ ہوا بھی تو انہی دونوں جماعتوں کو ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کی سیاسی مقبولیت کم کرنے اور اپنی جماعتوں کو سیاسی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس وقت سیاسی فائدہ ہوا ہے اور لوگوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوگئی ہیں۔
ان کے مطابق مولانا کی خواہش تھی کہ عام لوگوں کو یہ احساس ہوتا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوامی فلاح کے لیے کام نہیں کر رہی اور اس کی توجہ صرف عمران خان کی رہائی تک محدود ہے۔
جے یو آئی کی مخالف سیاسی جماعت کے ایک رہنما نے بتایا کہ مولانا براہ راست اقتدار سے دور ہونے کے بعد اب عوامی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے خیال میں اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی صوبے میں بہتر حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل میں کامیاب نہ ہوسکیں تو مولانا اس صورت حال سے سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔
مولانا صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں؟
جے یو آئی کے رہنما نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں صوبے میں اگلی بار اقتدار حاصل کرنے پر ہیں اور مولانا ابھی سے اگلے انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مولانا ایک 2 دن کے لیے نہیں سوچتے بلکہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ سے مولانا کو کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔‘
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت معطل ہونے سے ان کی جماعت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس اختیارات آگئے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں جے یو آئی کا ووٹ بینک موجود ہے، لیکن جماعت اقتدار سے دور ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان تلخی بڑھانے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں، حکومتی رہنما
انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ انہیں مذاکرات کا اختیار دیا گیا اور پھر گورنر راج نافذ کردیا گیا۔
مولانا حکومت میں حصہ چاہتے ہیں؟
مولانا کے سیاسی مخالفین کا مؤقف ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت بھی صوبے میں حکومت کا حصہ بنے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے نام لیے بغیر کہا تھا کہ ایک جماعت کے سربراہ حصہ نہ ملنے پر تنقید کر رہے ہیں، جسے تجزیہ کاروں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب اشارہ قرار دیا۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے مولانا کی تنقید کو بے جا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کی جماعت صوبے میں کمزور ہوچکی ہے اور وہ اس طریقے سے حکومت میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا سے بات ہوسکتی ہے اور وہ بات مان بھی لیں گے۔









