خیبرپختونخوا کے حالات 6 ماہ میں بہتر نہ ہوئے تو آئین کے مطابق ایمرجنسی کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے، رانا ثنااللہ

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور خیبرپختونخوا کی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے رکن سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے حالات 3 سے 6 ماہ میں اس سطح پر لانا ہوں گے جہاں لوگوں کو امن میسر ہو، وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں، کاروبار کرسکیں اور بلاخوف آمدورفت جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتر نہ ہوئے تو 10 بار بھی ایمرجنسی لگانا پڑی تو لگائیں گے، اقتدار میں چاہے پاکستان تحریک انصاف ہو، اسے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ یہ نظام کام کر لے گا۔ ایڈوائزری کونسل سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کو سپورٹ دے گی، جن علاقوں کو فوج دہشت گردی سے پاک کرے گی، وہاں انتظامیہ کو انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی جس شخص کو قائد ایوان منتخب کرتی ہے، اسے دہشت گردی کے خلاف متفق ہونا ہوگا۔ قائد ایوان دہشت گردی کے خلاف متفق نہیں ہوگا تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ پی ٹی آئی اقتدار میں ہو یا کوئی اور جماعت، اسے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دن کو یوم سیاہ یا یوم نجات کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہیے۔ یوم نجات اس دن ہوگا جب دہشت گردی پر قابو پالیں گے اور شہدا کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی جن حالات میں نافذ کی گئی، وہاں ہمارے جوان قربانیاں دے رہے تھے، دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں ہو رہا تھا اور صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی کردار نہیں تھا۔ ہم پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے کردار کو مائنس کرکے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 12 اکتوبر کو پاکستان پر ایک غیر آئینی دور مسلط کیا گیا تھا، مارشل لا نافذ ہوا اور ایک منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تھا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی اور اس وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تو مسلم لیگ (ن) نے ملکی مفاد کے خلاف کوئی ذاتی مفاد ترجیح نہیں دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف گورنر راج نافذ کرنے کی وجوہات درست نہیں تھیں، تاہم خیبرپختونخوا میں صورت حال یہ تھی کہ لوگوں کے لیے مغرب کے بعد گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا تھا۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ پی ٹی آئی 10 سے 12 ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکے گی اور ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار خدشہ تھا کہ افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بعض افراد مارچ میں شامل ہوکر کوئی کارروائی نہ کردیں، جس سے خون خرابہ ہوسکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام قیادت کو ایک طرف کرکے 32 سالہ نوجوان کو تمام فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے گورنر راج کے خلاف نعرہ لگایا اور نہ احتجاج کیا، اس کے لیے جرات درکار ہوتی ہے۔ ہمیں 90 فیصد توقع تھی کہ خیبرپختونخوا سے کوئی ردعمل نہیں آئے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سہ فریقی ایک روزہ سیریز: سری لنکا کی انگلینڈ کے خلاف شاندار فتح، کونسے ریکارڈ ٹوٹے؟

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

محسن نقوی کا صدر مالدیپ اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ، پاکستانی ثقافت اور صوفی قوالی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے

پی آئی اے کا نیا یونیفارم متعارف، معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے تیار کیا

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

ویڈیو

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟