وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے میں ترقیاتی اقدامات اور پائلٹ منصوبے کی تیاری میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے ساتھ جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سست روی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر تراش خراش اور ان کی قدر میں اضافے تک ایک مکمل نظام تیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معدنیات، ہنرمندی اور ایس ایم ایز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات بڑھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے ’برانڈ پاکستان‘ متعارف کرانے پر کام کیا جائے۔ شعبے میں قدر افزائی کے لیے اعلیٰ معیار کے مراکز (سینٹرز آف ایکسیلینس) کے جلد قیام کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے پائلٹ منصوبوں اور قیمتی پتھروں کی ماڈل کانوں کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا قیمتی پتھروں و جواہرات (Gemstones) کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی، ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات ترجیح ہیں، کسی قسم کی سست روی قبول نہیں. قیمتی پتھروں کی کان کنی اور انکی تراش خراش سے ویلیو ایڈیشن کا ایک پورا ایکو-سسٹم تیار کیا جائے. قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقہ کار سے کان کنی اور اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کو اللہ رب العزت نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے. قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں. وزیر اعظم نے ہدایات دیں کہ خطے کے دوسرے ممالک کی طرح قیمتی پتھروں و جواہرات کیلئے برانڈ پاکستان پر کام کریں. ویلیو ایڈیشن کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے جلد قیام کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے. پائلٹ پراجیکٹس اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کی تعمیر کیلئے تمام تر رکاوٹیں دور کرکے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے ترقی اور انکی برامدات میں اضافے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور ان کی ویلیو ایڈیشن کے بعد برآمدات کیلئے تیاری کے پائلٹ پراجیکٹ پر پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلیس منصوبے کیلئے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی، منصوبے کے لئے فنڈز دستیاب ہیں اور تعمیر پر جلد شروع کر دیا جائیگا.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں منصوبے کیلئے زمین کی نشاندہی کی جاچکی ہے. اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی تعمیر تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر آپریشنل کر دیا جائیگا.
اجلاس کو شعبے کی ترقی کیلئے پالیسی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے حوالے سے نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولاجیکل میپنگ مکمل ہو چکی جس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کیلئے نشاندہی کی گئی ہے. اس سال شعبے کی ترقی کے لئے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ کی مد میں 1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں کے 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں و جواہرات کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 14, 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور قدر میں اضافے کے بعد انہیں برآمدات کے لیے تیار کرنے سے متعلق پائلٹ منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے۔ منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں اور تعمیراتی کام جلد شروع کردیا جائے گا۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبے کے لیے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی عمارت تعمیر ہونے تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر فعال کردیا جائے گا۔
اجلاس میں شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے پالیسی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ قیمتی پتھروں سے متعلق نشاندہی شدہ علاقوں کی ارضیاتی نقشہ سازی مکمل ہو چکی ہے۔ اس عمل کے دوران گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے سات شہروں میں 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں برآمدات کی سہولت کے ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے اعلیٰ معیار کے مراکز کے قیام اور شعبے کی ترقی کے اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











