لوئر جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں خسرے کے کیسز سامنے آنے کے بعد بچوں میں اس متعدی بیماری کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں گزشتہ 2 روز کے دوران خسرے کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں خسرہ سے اموات میں 88 فیصد کمی، مگر وائرس اب بھی خطرناک
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد کے مطابق ایک روز قبل خسرے کے 7 کیسز سامنے آئے، جبکہ منگل کے روز مزید 6 کیسز رپورٹ کیے گئے۔
محکمہ صحت کے مطابق وانا کے مختلف علاقوں میں بیشتر بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین پہلے ہی لگائی جا چکی ہے۔ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور احتیاطی اقدامات مؤثر بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
Twin siblings have died of measles in Santooi, Shakai Tehsil, Lower South Waziristan.
The children’s uncle blamed a lack of medical facilities at DHQ Hospital Wana. However, the DHO said both children had been vaccinated
1/ pic.twitter.com/lx0ZSqDLlp— Lal Wazir journalist in PAK -AFG (@LalWazir19) October 20, 2026
دوسری جانب مقامی افراد نے وانا اسپتال میں طبی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ بچوں کو اسپتال میں مناسب علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں بنیادی طبی سہولیات اور ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، بچوں کو بروقت علاج فراہم کیا جائے اور خسرے سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: کراچی سمیت سندھ میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 57 اموات اور 4,200 متاثر
واضح رہے کہ 5 روز قبل بھی لوئر جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکئی کے علاقے سن توئی میں خسرے کے باعث جڑواں بہن بھائی جاں بحق ہو گئے تھے۔
محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ علاقے میں خسرے کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔









