پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملتان میں گاڑی تلے کچلا گیا بچہ صرف 2 وقت کی روٹی کے عوض ملزم کے پاس ملازمت کرتا تھا۔ ملزم پولیس کی حراست سے فرار ہوا تھا، جبکہ 2 افراد اسے چھڑانے کے لیے آئے تھے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزم کے فرار ہونے کے بعد ناکہ بندی کی گئی اور مسلسل اس کا پیچھا بھی کیا جاتا رہا۔ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ نہیں رکے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم اگر عدالت میں بھی پیش ہوتا تو اسے وہاں بھی سزا ہو جاتی۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملزمان کے ساتھ مقابلوں میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے 7 اہلکار شہید اور 100 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سی سی ڈی کے تمام مقدمات کا نتیجہ پولیس مقابلوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد صوبے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس مقابلوں کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو اور اسے انصاف فراہم کرے۔
ملتان میں جاں بحق ہونے والے بچے کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ والد کے انتقال کے بعد رشتے داروں نے بھی اس بچے کو اپنے ساتھ نہیں رکھا۔
انہوں نے کہا کہ ان 2 بچوں کو 2 وقت کی روٹی دینے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے نے اس سے پہلے بھی ملزم کے پاس سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا پوسٹوں سے متعلق سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حنا پرویز بٹ کتنی سنجیدہ پوسٹیں کرتی ہیں، وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتیں۔
انہوں نے کہا کہ حنا پرویز بٹ کی پوسٹوں کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بلکہ حکومت بھی شرمندگی کا سامنا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ملتان میں بچے کو گاڑی تلے کچلنے والا ملزم سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔










