پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا۔
پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ اور مالدیپ کے وزیر اقتصادی ترقی نے دوطرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
بزنس فورم میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے معاہدے کو پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کا نیا باب کھل گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی کو مضبوط تجارتی شراکت داری اور کاروباری برادری کے درمیان براہ راست روابط میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
سیاحت، زراعت اور ماہی گیری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع
پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے عاطف اکرام شیخ نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت، ماہی گیری، زراعت، غذائی مصنوعات اور تعمیرات کے شعبوں میں باہمی تعاون کے روشن امکانات ہیں، جن سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اور مالدیپ کے نجی شعبے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کی معاونت کرکے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔
’تجارتی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کریں گے‘
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ فیڈریشن پاکستان اور مالدیپ کے درمیان کاروباری اداروں کے براہ راست روابط بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے تجارتی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکے۔
عاطف اکرام شیخ نے اس عزم کا اظہار کیاکہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو محض دستاویزی معاہدے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے عملی اقدامات اور قابل پیمائش معاشی نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مضبوط تعاون سے نہ صرف دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔









