خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں دہشت گردوں کے ساتھ پولیس مقابلے کے دوران کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے سینیئر افسر سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 2 مشتبہ دہشتگرد بھی مارے گئے۔
کرک پولیس کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے کے بعد علاقے میں مزید نفری تعینات کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
پولیس مقابلہ کیسے پیش آیا؟
کرک پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کرک کے نواحی علاقے چارپارا میں کچھ دہشتگرد ایک گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اطلاع ملنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) عمران الدین کی سربراہی میں سی ٹی ڈی کی ٹیم علاقے میں پہنچی اور مشتبہ دہشتگردوں کی موجودگی والے گھر کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کردی۔
پولیس حکام کے مطابق جب سی ٹی ڈی ٹیم نے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اندر موجود مشتبہ دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
پولیس کے مطابق مقابلے کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے، جن میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) افضل اعوان، کانسٹیبل کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد شامل ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ جوابی فائرنگ میں 2 دہشتگرد بھی ہلاک ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔ تاہم آخری اطلاعات تک کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
شہید ڈی ایس پی عمران الدین کون تھے؟
شہید ڈی ایس پی عمران الدین کا شمار خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر اور جری افسران میں ہوتا تھا۔ وہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ کرک میں تعیناتی سے قبل وہ ضلع بنوں میں تعینات رہے تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں سی ٹی ڈی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔









