پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم آئندہ 2 سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کا دورہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا۔

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ پاکستانی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیاں مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، مالدیپ کے صدر کے ہمراہ آنے والے وفد کے ارکان اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، وزیراعظم

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے مخلص دوست ہیں اور ان کا دورہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ یہ دورہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ نے اپنے قریبی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہے، جسے آئندہ 2 برسوں میں بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور مالدیپ کی کاروباری شخصیات اور اداروں پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس ہدف کو ایک ٹھوس عملی منصوبے میں تبدیل کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارتی حجم بڑھانے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے صدر کی وطن واپسی کے بعد پاکستانی تاجروں اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد مالدیپ بھیجا جائے گا۔

وفد میں ایسے کاروباری افراد شامل ہوں گے جو مالدیپ کے متعلقہ شعبوں میں برآمدات کا تجربہ رکھتے ہوں گے، جبکہ متعلقہ وفاقی وزرا اور سرکاری حکام بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارتی حجم کا مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے بھرپور تیاری، غیر معمولی محنت اور معمول سے بڑھ کر کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

اسلام آباد اور مالے کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان فضائی رابطوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں کا قیام نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد اور مالے کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کا عزم رکھتا ہے، کیونکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی سہولت موجود نہیں۔

وزیراعظم کے مطابق انہوں نے وزارت ہوا بازی کو ہدایت کی ہے کہ براہ راست پروازوں کے آغاز کے لیے فوری طور پر فزیبلٹی تیار کی جائے تاکہ یہ سلسلہ جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ بحری رابطے بھی اہمیت رکھتے ہیں اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اس شعبے میں بھی تیزی سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے کسی صدر نے 11 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے اور امید ہے کہ آئندہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے دورے باقاعدگی سے ہوتے رہیں گے۔

پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کا نیا دور شروع کرنا چاہتے ہیں، صدر مالدیپ

پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے فورم کے انعقاد کو اہم قرار دیا اور اس میں شرکت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرنا ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ مالدیپ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو گہرے برادرانہ روابط پر مبنی ہیں۔

صدر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اور مالدیپ کی دوستی اور سفارتی اعتماد کی بنیادیں مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔

صدر مالدیپ کے مطابق یہ مناسب وقت ہے کہ دونوں ممالک اپنے برادرانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی روابط، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کریں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز دوطرفہ تجارت کا حجم آئندہ 2 سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کی جائیں گی، جس سے نہ صرف کاروباری مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقائی خوشحالی اور پائیدار ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

پاکستانی زرعی، دوا ساز اور تعمیراتی کمپنیوں کے لیے مالدیپ میں مواقع

صدر محمد معیزو نے کہا کہ غذائی تحفظ مالدیپ کے لیے انتہائی اہم معاملہ ہے اور پاکستان کا زرعی شعبہ مالدیپ کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس زراعت، ٹیکنالوجی، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جس سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

صدر مالدیپ نے پاکستانی دوا ساز کمپنیوں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے پاکستانی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیوں کو مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مالدیپ اسلامی مالیات اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مالدیپ کا 2028 تک 33 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی سے حاصل کرنے کا ہدف

صدر محمد معیزو نے کہا کہ مالدیپ نے 2028 تک اپنی بجلی کی ضروریات کا 33 فیصد قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سمندری رابطوں کے قیام پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو ایسے تجارتی راستے قائم کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے باہمی تجارت کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔

صدر مالدیپ نے بتایا کہ مالدیپ کی قومی فضائی کمپنی جلد مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت، ادویہ سازی اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

تجارتی ہدف حاصل کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے، وزیر حکومت مالدیپ

قبل ازیں مالدیپ کے وزیر برائے اقتصادی ترقی، ٹرانسپورٹ و تجارت محمد سعید نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے پرتپاک میزبانی اور قابل قدر تعاون پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی فورم میں موجودگی مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

محمد سعید نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ نے آئندہ 2 سال میں دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور مالدیپ اس مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے قریبی تعاون کے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان مالدیپ بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں اور کاروبار کے ابھرتے ہوئے مواقع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

محسن نقوی کا صدر مالدیپ اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ، پاکستانی ثقافت اور صوفی قوالی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے

پی آئی اے کا نیا یونیفارم متعارف، معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے تیار کیا

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، 23 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

ویڈیو

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟