پاکستان میں 5 جی انٹرنیٹ متعارف کرانے کی باتیں تو زور و شور سے جاری ہیں تاہم عوام کے ذہنوں میں ایک اہم سوال موجود ہے کہ جب 4 جی ہی ٹھیک سے کام نہیں کرتا تو 5 جی سے کیا فائدہ ہوگا؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5 جی انٹرنیٹ: کیا یہ تیز سروس آئی ٹی ایکسپورٹس اور فری لانسنگ کو بڑھا سکے گی؟
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد کے مختلف شہریوں نے انٹرنیٹ کی سست رفتار، بار بار سگنلز ڈراپ ہونے، لنکس ڈاؤن ہونے اور موبائل ڈیٹا کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے مسائل نے روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ طلبہ کے مطابق ناقص انٹرنیٹ کے باعث انہیں آن لائن کلاسز لینے اور اسائنمنٹس جمع کرانے میں مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ فری لانسرز اور آئی ٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بار بار بندش اور سست رفتاری ان کے کام کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
شہریوں نے تفریح کے حوالے سے بھی شکایت کی کہ اگر وہ نیٹ فلکس پر کوئی فلم یا سیریز دیکھنے بیٹھیں تو بفرنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں 5جی انٹرنیٹ کی آمد سے اسٹریمنگ اسپیڈز میں 3 سے 5 گنا اضافہ متوقع
ایسے میں عوام کے لیے 5 جی سے متعلق بڑے بڑے دعووں سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ انہیں موجودہ انٹرنیٹ سروس ہی قابل اعتماد اور بلاتعطل فراہم کی جائے۔ شہریوں کے ردعمل سے یہ تاثر بھی نمایاں ہوا کہ عوام جدید ٹیکنالوجی کے مخالف نہیں بلکہ پہلے سے موجود سہولتوں میں بہتری چاہتے ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ 5 جی متعارف کرانے سے پہلے 4 جی نیٹ ورک کو مستحکم بنایا جائے اور سگنلز کی فراہمی بہتر کی جائے اور انٹرنیٹ کی رفتار محض دعووں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر بہتر بنائی جائے۔
ان کے مطابق آج کے ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں: 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی، تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی دستیابی میں کتنا موثر ثابت ہوگا؟
شہریوں کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے خواب دکھانے سے پہلے موجودہ ٹیکنالوجی سے وابستہ مسائل حل کیے جائیں تاکہ وہ بھی ڈیجیٹل ترقی کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں۔










