وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو 10 ماہ سے زائد عرصے کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں، جہاں ان کے حامیوں نے پُرجوش استقبال کیا۔
ماچاڈو نے اتوار کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں حامی وینزویلا کے پرچم لہراتے، خوشی کا اظہار کرتے اور ان کی گاڑی کے گرد جمع دکھائی دیے۔
دارالحکومت کراکس پہنچنے پر بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کے استقبال کے لیے سڑکوں، شاہراہوں اور پلوں پر جمع ہوگئے۔ ماچاڈو نے گزشتہ برس دسمبر میں ناروے کا سفر کیا تھا، جہاں انہوں نے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے نوبیل امن انعام وصول کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوئی، امن کا نوبیل انعام 2025 وینزویلا کی ماریہ کورینا کو مل گیا
ماچاڈو حالیہ برسوں میں وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی کی نمایاں آواز بن کر ابھریں۔ انہوں نے سابق صدر نکولس مادورو کی حکومت کی سخت مخالفت کی اور 2024 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد زیادہ تر روپوش رہیں۔ اس انتخاب میں حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والے انتخابی حکام نے مادورو کو کامیاب قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ اقتدار پر برقرار رہے، تاہم جنوری 2026 میں امریکی خصوصی فورسز کی کارروائی کے بعد انہیں اقتدار سے ہٹا کر گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد امریکا نے وینزویلا میں سیاسی مفاہمت اور جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کیے، جن میں اب تک ماچاڈو کو شامل نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماچاڈو کی وطن واپسی سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حفاظت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ مادورو کی جگہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ کام کر رہی ہے، جنہوں نے سیاسی و معاشی اصلاحات کے لیے امریکی مطالبات پر عمل درآمد کیا ہے، جن میں سیکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی تمام سیاسی جماعتوں کی آزادیوں کے احترام اور مذاکرات کے تسلسل کا خواہاں ہے۔ ماچاڈو کی جماعت کے مطابق ان کی وطن واپسی کا مقصد جمہوری انتقالِ اقتدار کو آگے بڑھانا اور ملک میں انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچادو نے اپنا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کو پیش کردیا
ماچاڈو اس سے قبل کئی مرتبہ وطن واپسی کی کوشش کرچکی تھیں، تاہم انہیں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینزویلا کے مستقبل، نئے انتخابات کے انعقاد اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کو ہٹانے کے بعد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی کنٹرول بڑھانے کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے، جس پر ماچاڈو نے سوالات اٹھائے تھے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے اقوام متحدہ میں نئے انتخابات اور مکمل جمہوریت کی بحالی کا وعدہ کیا ہے، تاہم ووٹنگ کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔ ماچاڈو کی واپسی سے سیاسی عمل میں ان کے کردار اور آئندہ انتخابات میں ممکنہ شرکت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔











