پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے علاقے گلبہار میں زیرزمین پانی کی گرتی ہوئی سطح محض پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں، بلکہ بدلتے وقت، بڑھتی ہوئی آبادی اور روزمرہ زندگی میں بڑھتی مشکلات کی بھی عکاس ہے۔ اس علاقے میں کبھی صرف 35 فٹ کھدائی کرنے پر پانی دستیاب ہو جاتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ زیرزمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جاتی رہی اور پانی کے حصول کے لیے مزید گہرائی تک کھدائی کرنا پڑنے لگی۔

گلبہار کے ایک ٹیوب ویل پر گزشتہ 10 سال سے خدمات انجام دینے والے آپریٹر سید ہادی زیرزمین پانی کی سطح میں آنے والی اس تبدیلی کے عینی شاہد ہیں۔

وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ 2005 میں تقریباً 35 فٹ کھدائی کے بعد پانی دستیاب ہو جاتا تھا، تاہم 2015 میں بورنگ کی گہرائی بڑھ کر 65 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ 2022 تک پانی کے حصول کے لیے تقریباً 90 فٹ گہرائی تک کھدائی کرنا پڑتی تھی۔

ان کے مطابق زیرزمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی کے باعث اب بورنگ کرانے والے شہریوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ اعدادوشمار صرف پانی کے حصول کے لیے کھدائی کی بڑھتی ہوئی گہرائی کو ظاہر نہیں کرتے، بلکہ اس بدلتی ہوئی صورتحال کی بھی عکاسی کرتے ہیں جس کے اثرات گلبہار کے مکین اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کررہے ہیں۔

’جب تیسری منزل تک پانی پہنچانا مشکل نہیں تھا‘

سید ہادی کے مطابق تقریباً 10 سال قبل علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورتحال نسبتاً بہتر تھی۔ 2015 میں پانی کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ گھروں کی تیسری منزل تک بھی پانی باآسانی پہنچ جاتا تھا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ شہریوں کو پانی کے حصول کے لیے موٹروں کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات ان کی ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔

پانی کی فراہمی میں آنے والی اس تبدیلی کا اندازہ اسی ٹیوب ویل کی صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں کبھی پانی کا دباؤ بہتر ہونے کے باعث گھروں تک پانی باآسانی پہنچ جاتا تھا، تاہم اب دباؤ میں کمی شہریوں کی شکایات کا باعث بن رہی ہے۔

ٹیوب ویل کے پائپ بڑھ گئے، مگر پانی کا مسئلہ برقرار

زیرزمین پانی کے حصول کے لیے نہ صرف بورنگ کی گہرائی بڑھانا پڑی بلکہ ٹیوب ویل کی موٹر کے ساتھ نصب پائپوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا پڑا۔ سید ہادی کے مطابق پہلے موٹر کے ساتھ 18 پائپ لگے ہوئے تھے، تاہم پانی کی سطح مزید نیچے جانے کے باعث ان کی تعداد بڑھا کر 22 کر دی گئی۔

اس کے باوجود پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات مکمل طور پر دور نہیں ہو سکیں۔ مذکورہ ٹیوب ویل سے تقریباً 800 سے 900 گھروں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کا انحصار ایک ہی ٹیوب ویل پر ہونے کے باعث پانی کی مسلسل فراہمی اور اس کے دباؤ کو برقرار رکھنا مزید اہم مسئلہ بن گیا ہے۔

سید ہادی کے مطابق ماضی میں ٹیوب ویل خراب ہونے کی صورت میں متبادل انتظام کے تحت پانی کا ٹینکر فراہم کر دیا جاتا تھا، تاہم اب شہریوں کی زیادہ تر شکایات پانی کے کم دباؤ سے متعلق ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ محض ٹیوب ویل کو فعال رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ شہریوں کو ان کی ضروریات کے مطابق مطلوبہ مقدار میں پانی کی فراہمی یقینی بنانا بھی ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

’پانی کی کمی، گھروں کے اندر بڑھتی پریشانی‘

گلبہار کے ایک رہائشی کے نزدیک زیرزمین پانی کی گرتی ہوئی سطح محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں درپیش ایک مشکل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 8 سے 10 سال کے دوران علاقے میں زیرزمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ پانی کی قلت اب کسی مخصوص موسم تک محدود نہیں رہی بلکہ سال بھر برقرار رہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث روزمرہ کے گھریلو کام کاج متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ ادارے کو متعدد بار شکایات بھی درج کرائی جا چکی ہیں، تاہم ان کے بقول اب تک ان شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ایک جانب ٹیوب ویل آپریٹر زیرزمین پانی کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی گہرائی اور پانی کے کم ہوتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے، تو دوسری جانب شہری انہی مسائل کے باعث روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں پیش آنے والی مشکلات بیان کرتے ہیں۔ یوں دونوں کے تجربات ایک ہی مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔

گلبہار کی کہانی، پشاور کے لیے ایک سوال

گلبہار میں زیرزمین پانی کی سطح کے حوالے سے سید ہادی کے مشاہدات اور شہریوں کی شکایات پشاور میں زیرزمین آبی ذخائر کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ اگر بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور زیرزمین آبی ذخائر کی بحالی اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں پانی کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

ایک جامع سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پشاور کے زیرمطالعہ علاقے سے روزانہ 166.4 ملین گیلن زیرزمین پانی نکالا جا رہا ہے، جبکہ تحقیق کے مطابق پانی کے اخراج کی محفوظ حد صرف 22.92 ملین گیلن یومیہ ہے۔ اس طرح زیرزمین پانی کا اخراج مقررہ محفوظ حد سے 7 گنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، جبکہ پانی کی سطح ہر سال اوسطاً 1.45 میٹر نیچے جا رہی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پشاور کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پشاور میں گھریلو اور بلدیاتی سطح پر پانی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات زیرزمین آبی ذخائر سے پوری کی جاتی ہیں۔ آبادی میں تیزی سے اضافے، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، صنعتی سرگرمیوں اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ان ذخائر پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مٹی، ریت، بجری اور بڑے پتھروں کی تہوں میں 300 میٹر سے زیادہ گہرائی تک پھیلے ان آبی ذخائر سے مسلسل پانی نکالا جا رہا ہے، تاہم قدرتی طور پر پانی کے دوبارہ زمین میں جذب ہونے کی رفتار، پانی کے اخراج کے مقابلے میں ناکافی قرار دی گئی ہے۔

گلبہار میں پانی کے حصول کے لیے کھدائی کی گہرائی 35 فٹ سے بڑھ کر 90 فٹ تک پہنچ جانا اس سنگین مسئلے کو مقامی سطح پر سمجھنے کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ زیرزمین پانی کا بحران محض مستقبل کا خدشہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پانی کے کم ہوتے دباؤ، شہریوں کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور پانی کی فراہمی سے متعلق شکایات کی صورت میں آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

پی ٹی آئی رہنماؤں کی سیاست اور سرگرمیاں دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ تھیں، رانا ثنااللہ

حکومت نے 27 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا

ویڈیو

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟