بھارت میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت سمیت 21 خبر رساں اداروں نے نریندر مودی حکومت کے ڈیٹا پرائیویسی قانون کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ اس قانون سے تحقیقاتی صحافت، صحافیوں کے ذرائع اور آزادیٔ صحافت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ حکومت کو صحافیوں سے معلومات طلب کرنے اور ان کے ذرائع تک پہنچنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قانون کی بیشتر متنازع شقوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس درخواست کی سماعت منگل کو متوقع ہے۔ یہ مودی حکومت کے ڈیٹا پرائیویسی قانون کے خلاف اب تک کا سب سے نمایاں عدالتی چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنا جرم بن گیا، راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی گرفتار
بھارتی حکومت نے گزشتہ سال صارفین کے ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قانون پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت میٹا اور گوگل جیسے پلیٹ فارمز کے لیے بھی ضابطوں کی پابندی کے تقاضے بڑھائے گئے۔ تاہم خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو قانون سے واضح استثنیٰ نہ دینا آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ ہے۔
بھارتی ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے اگست میں ہونے والی ملاقات کے دوران آزادیٔ صحافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن قانون میں صحافیوں کے لیے تحریری استثنیٰ شامل نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یورپی یونین، سنگاپور اور برطانیہ میں صحافت کے لیے اس نوعیت کے تحفظات موجود ہیں۔
درخواست گزار اداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت کسی شخص کے بارے میں تحقیق کرنے سے پہلے صحافیوں کو اس کی رضامندی حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس سے تحقیق کا موضوع بننے والے افراد کو شواہد ضائع کرنے یا گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی رعنا ایوب اور ان کے والد کو قتل کی دھمکیاں موصول
قانون میں کسی شخص کو اپنی رضامندی واپس لینے اور ذاتی ڈیٹا حذف کرنے کا مطالبہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جس سے میڈیا اداروں کو شائع شدہ خبروں کو ہٹانے یا ان کے اہم حصے حذف کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
درخواست میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان شقوں کے نتیجے میں تحقیقاتی صحافت محض واقعات کا بے ضرر ریکارڈ بن کر رہ جائے گی۔ میڈیا اداروں کے مطابق اس قانون کے تحت معلومات طلب کرنے کے اختیارات صحافیوں کے ذرائع کو بھی بے نقاب کرسکتے ہیں، جس سے بدعنوانی، کارپوریٹ بے ضابطگیوں اور انتخابی بدعنوانی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
قانون کے تحت قائم وفاقی اتھارٹی کو عدم تعمیل پر جرمانے عائد کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ درخواست گزاروں کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ حکومت عوامی مفاد کے نام پر کسی بھی معلومات تک رسائی روکنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کی ایسی وسیع حدود آزادیٔ صحافت کو محدود کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: صحافی راجیو پرتاپ کی موت، حادثہ یا منصوبہ بندی کے تحت قتل؟
درخواست گزاروں میں امبانی کا میڈیا گروپ نیٹ ورک 18، اڈانی کا این ڈی ٹی وی، انڈین ایکسپریس اور ٹائمز انٹرنیٹ سمیت متعدد بڑے ادارے شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ مودی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بھی ہے، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں ماضی میں امبانی اور اڈانی کے کاروباری گروپس پر حکومت سے قربت اور مبینہ طور پر خصوصی رعایتیں حاصل کرنے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ تاہم دونوں کاروباری گروپس اور حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
یہ مقدمہ بھارت میں آزادیٔ صحافت کی صورت حال پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے عالمی آزادیٔ صحافت اشاریے میں بھارت کی درجہ بندی رواں سال 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر رہی، جبکہ 2014 میں ملک 140ویں نمبر پر تھا۔ بھارتی حکومت ان درجہ بندیوں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ملک میں اخبارات اور ٹی وی چینلز سمیت ذرائع ابلاغ کا وسیع نظام موجود ہے اور آزادیٔ صحافت کا جائزہ لینے کے لیے غیر ملکی اداروں کی توثیق ضروری نہیں۔
قانون کی بیشتر متنازع شقوں پر مئی 2027 سے عمل درآمد متوقع ہے۔ میڈیا اداروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان شقوں کو ختم کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول یہ نہ صرف تحقیقاتی صحافت کو متاثر کرسکتی ہیں بلکہ صحافیوں اور ان کے معلومات فراہم کرنے والوں کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔











