وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی بہنیں ملک میں انارکی اور افراتفری پیدا کرنا چاہتی تھیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی سیاسی سرگرمیاں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں لوگوں کو گمراہ کر رہی تھیں، یہ لوگ شہدا کے خلاف بھی منفی بیانیہ اور پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق کے اثرات، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کافی تیاری کی اور مختلف حربے استعمال کیے، جبکہ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی ان سرگرمیوں میں شامل تھے۔ ایسے افراد کو کچھ عرصے کے لیے الگ رکھنا ضروری تھا تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت دہشتگردی کی سنگین لہر کا سامنا ہے۔ یہ محض دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیاں نہیں بلکہ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی دہشتگردی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی سیاست اور سرگرمیاں دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بن رہی تھیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افواج پاکستان کے جوان ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ جو اہلکار دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو رہے ہیں، تحریک انصاف کے بعض رہنما انہی شہدا کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وجود اور سالمیت کے خلاف جاری دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر یہ تعین کیا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کس نوعیت کا ماحول درکار ہے۔ ان کے مطابق معاملہ صرف عمران خان کی 3 بہنوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر افراد بھی اس میں شامل ہیں۔
سہیل آفریدی کی تحویل سے متعلق سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ ایک اچھے ریسٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور وہاں آرام سے رہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ صرف حفاظتی تحویل میں ہیں تاکہ کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق سہیل آفریدی جن 20 لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کی بات کر رہے تھے، وہی لوگ اب ان کے مخالف بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کے وجود اور سالمیت کا معاملہ ہے، اس میں کسی کے مزاج یا موڈ کی کوئی اہمیت نہیں۔











