سپریم کورٹ آف انڈیا نے 4 سال بعد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کی درخواست کو بالآخر نمبر لگا ہی دیا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کا 5 اگست 2019 کا غیر آئینی اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا نے معاملے کی شنوائی کے لیے سنیئر ترین ججوں پر مشتمل 5 رکنی بینچ قائم کیا ہے۔ بینچ منگل (11 جولائی) سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے گا۔
آرٹیکل 370 کی تنسیخ کو غیر آئینی قرار دینے کے لیے بھارتی بیورو کریسی کے حاضر سروس افسر شاہ فیصل نے 28 اگست 2019 کو درخواست دائر کی تھی۔ 4 سال تک ججوں کی ریٹائرمنٹ اور سماعت سے معذرت کی بنا پر بینچ بنتا اور ٹوٹتا رہا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے 4 سال گزرنے کے بعد بنیادی حقوق کی درخواست پر سماعت شروع ہونا بھارتی نظام انصاف کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے۔
سپریم کورٹ کے اعلان پر کشمیری سیاست دانوں، علماء کرام اور تاجر برادری سمیت کشمیری عوام کی طرف سے بھرپور خیر مقدم کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ کشمیر ہمیشہ آزاد تھا اور رہے گا۔ امید ہے سپریم کورٹ مودی سرکار کے غیر آئینی اقدام کو کالعدم قرار دے گی۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا تھا، جس کے تحت بھارت کے دیگر شہروں کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادیں حاصل کرنے اور مستقبل رہائش کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔
آرٹیکل 370 کے باعث بھارت کی پارلیمنٹ کے پاس دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ ریاست میں قوانین نافذ کرنے کے محدود اختیارات تھے۔ مودی حکومت کے فیصلے کو کشمیری عوام، عالمی تنظیموں اور ہندو قوم پرست حکمران جماعت کے ناقدین نے مسلم اکثریتی خطے کو ہندو آباد کاروں کے ذریعے شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔













