بلتستانی گاؤں کا المیہ: والدین اور بیٹوں کے بیچ ایک کلومیٹر کا فاصلہ نصف صدی میں بھی طے نہ ہوسکا

منگل 22 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

13 دن تک جاری رہنے والی سنہ 1971 کی جنگ نے بلتستان کے سینکڑوں خاندانوں کے درمیان جدائی کی نہ مٹنی والی لکیر کھینچ دی تھی۔ اس دوران بلتستان کے 4 گاؤں چلونکھا، قیاقشی، تھنگ اور تورتوک پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا جس کے نتیجےمیں ایک نئی سرحد وجود میں آئی اور بہت سے لوگ عمر بھر کے لیے جدا ہوئے۔

ان میں سے ایک خاندان روزی علی کا ہے جن کے 2 بیٹے گوبا علی اور احمد شاہ جنگ کے وقت تھنگ گاؤں میں تھے۔ 4 یا 5 سال کی عمر کے یہ بچے ساری زندگی کے لیے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بچھڑ گئے کیوں کہ اس گاؤں پر بھارت نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان کے ماں باپ سمیت خاندان کے دیگر افراد پاکستان کے گاؤں فرانو میں آباد ہیں۔

گزشتہ دنوں روزی علی نے اپنے بچھڑے بیٹوں گوبا علی اور احمد شاہ کو دیکھنے کی آس لیے اگلے جہان سدھار گئے۔ اس سے قبل ان کی اہلیہ اپنے بیٹوں کی جدائی کا غم اپنے ساتھ ہی لیے قبر میں اتر گئی تھیں۔

سرحدوں کے بیچ فقط ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود گوبا علی اور ان کے بھائی اپنے والدین کا آخری دیدار نہیں کرسکے۔ بھارت کے زیر قبصہ تھنگ گاؤں میں رہنے والے گوبا علی نے وی نیوز کو بتایا کہ جب وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بچھڑ ے تھے تو اس وقت صرف 5 سال کے تھے۔ پھر تھوڑا بڑے ہونے کے بعد اکثر سرحد کے قریب آ کر اپنے آبائی گاؤں فرانو کو دیکھ کڑ والدین کو یاد کیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی پاکستان یا مخلتف مذہبی رسومات کے موقع پر جب سرحد پار پاکستان میں پہاڑوں یا گھروں کو روشنیوں سے سجایا جاتا ہے تو وہ اس امید سے ان روشنیوں کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید یہ چراغاں ان کے والدین یا بہن بھائیوں نے کیا ہو۔

گوبا علی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ پہلے تو اس چراغاں کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے سکون ملتا تھا مگر والدین کے دنیا سے جانے کے بعد یہ احساس بھی دم توڑ گیا ہے۔ اپنے لہجے میں انتہا کی بے چارگی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ان کی طرح اپنے ماں باپ سے بچھڑجانے وا؛ئ بچوں کا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

’بھائیوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری ہے‘

ادھر پاکستان کے گاؤں فرانو چھوربٹ کے رہائشی اور گوبا علی کے چھوٹے بھائی شیر محمد کا کہنا تھا کہ بھائیوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری رہ جاتی ہے ۔ گاؤں کے قبرستان میں مدفون ہر ایک شخص اس امید کے ساتھ دنیا سے چلا گیا کہ وہ کبھی نہ کبھی سرحد پار موجود اپنے عزیز و اقارب سے ملے گا مگر سرحد کی لکیریں اپنوں کی ملاقات میں ہمیشہ حائل ہی ہیں۔

سرحد کے اطراف بسنے والے روزی علی کےدونوں بیٹوں نے حکومت پاکستان اور بھارت سرکار سے اپیل کی ہے کہ کرتار پوراور واہگہ بارڈر سمیت دیگر راہداریوں کی طرح چھوربٹ ترتوک بارڈر کو بھی کھولا جائے تاکہ بچھڑے ہوئے سینکڑوں خاندان آپس میں مل سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، ملزم کی عدم گرفتاری پر سخت ریمارکس

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں