13 دن تک جاری رہنے والی سنہ 1971 کی جنگ نے بلتستان کے سینکڑوں خاندانوں کے درمیان جدائی کی نہ مٹنی والی لکیر کھینچ دی تھی۔ اس دوران بلتستان کے 4 گاؤں چلونکھا، قیاقشی، تھنگ اور تورتوک پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا جس کے نتیجےمیں ایک نئی سرحد وجود میں آئی اور بہت سے لوگ عمر بھر کے لیے جدا ہوئے۔
ان میں سے ایک خاندان روزی علی کا ہے جن کے 2 بیٹے گوبا علی اور احمد شاہ جنگ کے وقت تھنگ گاؤں میں تھے۔ 4 یا 5 سال کی عمر کے یہ بچے ساری زندگی کے لیے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بچھڑ گئے کیوں کہ اس گاؤں پر بھارت نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان کے ماں باپ سمیت خاندان کے دیگر افراد پاکستان کے گاؤں فرانو میں آباد ہیں۔
گزشتہ دنوں روزی علی نے اپنے بچھڑے بیٹوں گوبا علی اور احمد شاہ کو دیکھنے کی آس لیے اگلے جہان سدھار گئے۔ اس سے قبل ان کی اہلیہ اپنے بیٹوں کی جدائی کا غم اپنے ساتھ ہی لیے قبر میں اتر گئی تھیں۔
سرحدوں کے بیچ فقط ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود گوبا علی اور ان کے بھائی اپنے والدین کا آخری دیدار نہیں کرسکے۔ بھارت کے زیر قبصہ تھنگ گاؤں میں رہنے والے گوبا علی نے وی نیوز کو بتایا کہ جب وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بچھڑ ے تھے تو اس وقت صرف 5 سال کے تھے۔ پھر تھوڑا بڑے ہونے کے بعد اکثر سرحد کے قریب آ کر اپنے آبائی گاؤں فرانو کو دیکھ کڑ والدین کو یاد کیا کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی پاکستان یا مخلتف مذہبی رسومات کے موقع پر جب سرحد پار پاکستان میں پہاڑوں یا گھروں کو روشنیوں سے سجایا جاتا ہے تو وہ اس امید سے ان روشنیوں کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید یہ چراغاں ان کے والدین یا بہن بھائیوں نے کیا ہو۔
گوبا علی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ پہلے تو اس چراغاں کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے سکون ملتا تھا مگر والدین کے دنیا سے جانے کے بعد یہ احساس بھی دم توڑ گیا ہے۔ اپنے لہجے میں انتہا کی بے چارگی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ان کی طرح اپنے ماں باپ سے بچھڑجانے وا؛ئ بچوں کا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
’بھائیوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری ہے‘
ادھر پاکستان کے گاؤں فرانو چھوربٹ کے رہائشی اور گوبا علی کے چھوٹے بھائی شیر محمد کا کہنا تھا کہ بھائیوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری رہ جاتی ہے ۔ گاؤں کے قبرستان میں مدفون ہر ایک شخص اس امید کے ساتھ دنیا سے چلا گیا کہ وہ کبھی نہ کبھی سرحد پار موجود اپنے عزیز و اقارب سے ملے گا مگر سرحد کی لکیریں اپنوں کی ملاقات میں ہمیشہ حائل ہی ہیں۔
سرحد کے اطراف بسنے والے روزی علی کےدونوں بیٹوں نے حکومت پاکستان اور بھارت سرکار سے اپیل کی ہے کہ کرتار پوراور واہگہ بارڈر سمیت دیگر راہداریوں کی طرح چھوربٹ ترتوک بارڈر کو بھی کھولا جائے تاکہ بچھڑے ہوئے سینکڑوں خاندان آپس میں مل سکیں۔













