بلوچستان کے ضلع قلات کے تاریخی کالی ماتا مندر میں ہندوؤں کا دیوی کالی ماتا کا 3 روز تہوار کا آغاز ہو گیا ہے، یہ تہوار منگل کو شروع ہوا اور جمعرات کو ختم ہو گا۔
اس سالانہ تہوار میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر سے ہندو برادری جمع ہوتی ہے، ہندو عقیدت مند قلات میں دیوی کالی کی عظمت کے لیے دعا کرنے اور بھجن گانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس سال بھی اس تہوار کا دھوم دھام سے ہوا ہے، ہندو عقیدت مند جہاں اس تہوار میں مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں، وہی ہندو عقیدت مندوں نے اس تہوار میں کھانے کے اسٹال لگا رکھے ہیں، تہوار میں مفت کھانا بھی تقسیم کیا جا رہا ہے، بہت سے لوگوں نے مذہبی اشیاء اور عقیدے کی اشیاء کے اسٹال بھی لگائے ہیں۔
Kalat Kali Mandir is a Hindu temple located in Shahi Bazaar Kalat , #Pakistan in #Balochistan province.
It was built 1500 years ago. The temple has the second biggest Kali Mata Statue in Asia!
It is also believed by some Hindus that Goddess Kali spent her life in Kalat! pic.twitter.com/SCodffjgp6
— Vision History (@VisionHistory) July 9, 2021
قلات برطانوی راج کے تحت ایک سابقہ ریاست تھی جہاں ہندو عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کافی تعداد اب بھی آباد ہے، بلوچستان بھر میں اب بھی بڑی تعداد میں ہندو مندر موجود ہیں جن میں اقلیتی برادری صدیوں سے آباد ہے۔
ہندو مانا مال نے کہا ہے کہ کالی تہوار ایشیا میں صرف 2 مقامات پر منایا جاتا ہے، پاکستان کے علاقے قلات میں اور بھارت کے شہر کولکتہ میں۔ اس تہوار کا بنیادی مقصد لوگوں کو محبت، امن، پیار اور بھائی چارے سے جوڑنا اور جوڑنا ہے۔
مانا مال نے کہا کہ ’پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمیں پاکستان میں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے، ہمیں سالانہ تاریخی تہوار میں شرکت کرکے بہت خوشی ہے۔‘
سمجھا جاتا ہے کہ اس مندر میں دیوی کالی کا ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا مجسمہ ہے جس کی وجہ سے قلات کا مندر ہندوستان سے بھی ہندو زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔












