بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت بچت اسکیم کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ بچت اسکیم کا مقصد صارفین میں مالی خود مختاری اور بچت کے رجحان کو پیدا کرنا ہے، عالمی ترقیاتی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت سے بی آئی ایس پی بچت اسکیم کا اجراء کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف، جی آئی زیڈ، جرمن کارپوریشن، اور اعلیٰ سرکاری حکام کے معزز نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس پی بچت اسکیم کا تعارف کرایا اور پروگرام کے بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچت اسکیم کا مقصد صارفین میں مالی خودمختاری اور بچت کی عادت پیدا کرنا۔
’جو انہیں معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران ایک اضافی سپورٹ کا کام دے گی۔‘
ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے کہا کہ بچت اسکیم کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے گھرانے اور 40 پی ایم ٹی سکور والے افراد مستفید ہوسکیں گے۔ بی آئی ایس پی بچت اسکیم مالی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، کیونکہ اس اسکیم کے تحت صارفین کے بچت اکاؤنٹس کھولے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ صارفین پر لازم ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے بچت کھاتوں میں محفوظ کریں، حکومت صارفین کی بچت کا 40 فیصد اضافی حصہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد اور خواتین دونوں ہی درخواست دینے کے اہل ہیں اور اس اسکیم کا ابتدائی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار افراد کو فائدہ پہنچانا ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے تمام ترقیاتی شراکت داروں کا بی آئی ایس پی بچت اسکیم کی تیاری اور آغاز میں ان کی تکنیکی اور مالی معاونت کے لیے شکریہ ادا کیا، اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس اسکیم میں شامل ہوں۔
تقریب کے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر طاہر نور، ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی اور ڈی جی این ایس ای آر جناب نوید اکبر نے پائلٹ مرحلے کے آغاز کے مقامات کا خاکہ پیش کیا، جس میں گلگت بلتستان (گلگت اور استور)، آزاد جموں و کشمیر (مظفر آباد اور نیلم)، خیبر پختونخوا (پشاور اور لکی مروت)، پنجاب (لاہور اور ملتان)، بلوچستان (کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ)، سندھ (کراچی اور سکھر)، اور وفاقی دارالحکومت (اسلام آباد) شامل ہیں۔
ڈاکٹر نور نے صارفین کے لیے باقاعدہ بچت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈز مشکل حالات میں قیمتی ثابت ہوں گے۔ اس اہم موقع پر عالمی ترقیاتی تنظیموں کے اہم نمائندوں اور ماہرین نے بچت اسکیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ضرورت مند خواتین کے لیے ڈیجیٹل اور مالی خواندگی کے وسیع میدان کے بارے میں اپنی انمول بصیرت کا اشتراک کیا۔
ورلڈ بینک کی لیڈ اکانومسٹ محترمہ میلس گوون، جرمن ترقیاتی تعاون کی فرسٹ سیکریٹری مسز لینا پاسٹ اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں انسانی اور سماجی ترقی کی ڈائریکٹر محترمہ صوفیہ شکیل نے مالیاتی بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ سوشل پروٹیکشن اینڈ جابس گلوبل پریکٹس کے پریکٹس مینیجر مسٹر سیم میٹے، ورلڈ بینک، جنوبی ایشیا ریجن، اور جی آئی زیڈ میں پراجیکٹ کی سربراہ محترمہ جوہانا نویس نے بی آئی ایس پی بچت اسکیم کی صلاحیت کے بارے میں ماہرانہ نقطہ نظر فراہم کیا۔
یونیسیف میں صنفی مشیر ڈاکٹر فہمیدہ اقبال اور تخفیف اور سوشل سیفٹی ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری جناب شہزاد نواز چیمہ نے بی آئی ایس پی کے فریم ورک کے اندر کمزور خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل اور مالی خواندگی کے کردار پر گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کے اختتام پر بی آئی ایس پی پورٹل کے ذریعے بچت اسکیم میں حصہ لینے والے مرد و خواتین صارفین میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔