انڈیا کے پیڑے مردان کی سوغات کیسے بنے؟

پیر 1 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قیام پاکستان کے بعد انڈیا کی ریاست اُتر پردیش سے محمد ضمیر خان پاکستان آئے اور خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں رہائش اختیار کی۔ ضمیر خان اُترپردیش کے علاقے بدایون سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں کی روایتی مٹھائی بنانے کے ماہر تھے۔ مردان آنے کے بعد محمد ضمیر خان نے مردان کے مقامی شخص کے ساتھ مل کر انڈین مٹھائی بنا کر فروخت کرنا شروع کر دی جو منفرد ذائقے کی وجہ سے لوگ پسند کرنے لگے۔

مردان کے بدایونی پیڑے کے کاروبار سے وابستہ وقار عباس کے والد اور ضمیر خان نے اس کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ وقار نے بتایا کہ ان کے والد نے انڈیا سے پیڑے بنانے کا طریقہ سیکھا  تھا۔ انہوں نے کہا، ’اصل میں پیڑے انڈین مٹھائی ہیں۔ انڈیا میں بدایون نامی جگہ ہے وہاں اب بھی پیڑے بنتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ 1950 کے بعد پیڑے مردان میں آئے جنہیں لوگوں نے بہت پسند کیا۔ ان کے مطابق مخلتف علاقوں اور صوبوں سے مردان آنے والے واپسی پر پیڑے ضرور لے جاتے ہیں۔ پیڑے کی تیاری میں خالص کھویا استعمال ہوتا ہے۔

مردان کے بینک روڈ پر پیڑے کی متعدد دکانیں ہیں جہاں خریداروں کا رش ہوتا ہے۔ جسے دیکھ کر اب وقار عباس نے پیڑے مشین سے بنانا شروع کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میرے مرنے کے بعد بیوی کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ 65 سالہ شخص نے بیوی کا قتل کردیا

آزاد کشمیر میں بروقت الیکشن کی راہ ہموار، غلام مصطفیٰ مغل نے چیف الیکشن کمشنر کا حلف اٹھالیا

وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے 12 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کر لیا

’رمضان سے پہلے نازیبا ساڑھیاں اور اب سر پر ڈوپٹا؟‘ لائیو کالر کا جویریہ سعود سے سخت سوال

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب