پاک-ایران تعلقات میں پیشرفت، ایرانی وزیر خارجہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے

پیر 22 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ایران تعلقات میں بڑی پیشرفت، ایرانی وزیر خارجہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔

پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات میں بڑی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔

ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستانی وزیرخارجہ کی دعوت پر 29 جنوری کو پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئیں گے۔

دونوں وزرائے خارجہ کے مابین یہ بھی طے پایا ہے کہ دونوں ممالک کے سفیر 26 جنوری سے اپنی ذمہ داریاں ازسرنو سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کو دونوں ملکوں کے مابین حال ہی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد دونوں طرف سے ہی  کشیدگی ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا