کیا مسلم لیگ ن انتخابات میں 100 سے زیادہ نشستیں حاصل کر پائے گی؟

پیر 22 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں عام انتخابات کو چند روز باقی رہ گئے ہیں لیکن مسلم لیگ ن ابھی تک اپنی انتخابی مہم بہتر انداز سے نہیں چلا سکی تاہم لیگی رہنما دعوے کر رہے ہیں کہ انہیں عام انتخابات میں سادہ اکثریت مل جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ابھی تک 2 ہی جلسے کر پائے ہیں جن میں ایک جلسہ حافظ آباد جبکہ دوسرا آج مانسہرہ میں ہوا ہے۔

نوازشریف کوئی واضح پلان سامنے نہیں لا سکے، سلمان غنی

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی نے کہاکہ پاکستان کے عوام کو نواز شریف سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں کہ وہ اس مشکل صورت حال میں کس طرح ریلیف دے سکتے ہیں لیکن نوازشریف اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح پلان سامنے نہیں لا سکے۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف 2018 کی طرح جلسے نہیں کر پا رہے۔ 2018 میں مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ لے کر چل رہی تھی جسے عوام نے پسند کیا اور قائد مسلم لیگ ن ملک سے باہر رہنے کے باوجود بھی مقبول رہے۔ لیکن اب کی بار مسلم لیگ ن کے پاس کوئی بیانیہ ہی نہیں جس کے باعث نوازشریف کو عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

نوازشریف کے اندر الیکشن والا جوش و جذبہ نظر نہیں آ رہا

سلمان غنی نے کہاکہ میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں نوازشریف کے اندر وہ الیکشن والا جوش و جذبہ نہیں ہے۔ وہ اپنے جلسوں میں ماضی کی باتیں کر کے عوام کا دل بہلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں ملک کی ایسی صورت حال کبھی نہیں تھی، ابھی تو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور ملک مشکل صورت حال سے گزر رہا ہے۔

سلمان غنی نے کہاکہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مسلم لیگ ن ابھی تک کوئی واضح پلان نہیں دے سکی، ’لگتا نہیں کہ 8 فروری کے انتخابات میں کوئی بھی جماعت 100 سیٹیں بھی لے سکے، آئندہ مخلوط حکومت بنے گی اور ن لیگ کو بھی یہی سمجھ آ رہا ہے‘۔

نواز شریف پر 3 بڑے دباؤ تھے

سلمان غنی نے کہاکہ الیکشن مہم تاخیر سے شروع کرنے کی وجوہات ہیں اور نوازشریف پر 3 بڑے دباؤ تھے۔

سلمان غنی کے مطابق نوازشریف پر سب سے پہلا دباؤ عام انتخابات کے لیے ٹکٹ ہولڈرز کا چناؤ تھا جس پر وقت لگ گیا، اس کے بعد دوسرا دباؤ اتحادیوں کے ساتھ چلنے کی اسٹریٹجی تھی کیونکہ جن لوگوں نے تحریک عدم اعتماد کے وقت ساتھ دیا ان کو بھی کہیں ایڈجسٹ کرنا تھا۔

سینیئر تجزیہ کار نے کہاکہ نوازشریف پر تیسرا بڑا دباؤ شہبازشریف کی اتحادی حکومت کی 16 ماہ کی کارگردگی کا ہے کیونکہ اس دور میں مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان آیا۔

انہوں نے کہاکہ اس سے قبل 2 دباؤ سے تو نوازشریف نکل گئے ہیں لیکن 16 ماہ کی حکومتی کارکردگی کا دباؤ ابھی بھی ان پر ہے۔ اس لیے وہ 16 ماہ کی حکومتی کارکردگی کا ذکر کرنے کے بجائے ماضی کی کارکردگی بتاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا افغان شہریوں کو کانگو یا طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان واپس بھیجنے پر غور کر رہا ہے

اقوام متحدہ کی وارننگ، چرنوبل کے قریب فوجی کارروائیاں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں

ایران کا اصل امتحان جنگ کے بعد ہوگا

اسپیس ایکس اور پاکستانی نژاد ماہر کی اے آئی کمپنی کا معاہدہ، 60 ارب ڈالر میں خریداری کا امکان

فرانس اور پولینڈ کی روس کے خلاف جوہری مشقوں کی تیاری، کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ایران کا اصل امتحان جنگ کے بعد ہوگا

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج