کیا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی جنم بھومی محض کتابوں میں رہ جائے گی؟

منگل 30 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکمرانی سنبھالنے کے بعد اندرون گوجرانوالہ میں واقع حویلی راجہ رنجیت سنگھ کے صدر دفتر کی حیثیت رکھتی تھی جہاں وہ سلطنت کے معاملات دیکھتے تھے۔

سکھ دور میں انتہائی اہمیت کی حامل یہ حویلی جہاں پر کئی سالوں تک سلطنت پنجاب کے اہم فیصلے ہوتے رہے لیکن آج  یہ ویرانی اور سناٹے کا منظر پیش کر رہی ہے۔

انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث یہ حویلی کھنڈر بن چکی ہے۔ جس کمرے میں رنجیت سنگھ کی پیدائش ہوئی تھی وہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور کسی بھی وقت اس حویلی کے زمین بوس ہونے کا خدشہ بھی اپنی جگہ ہے۔

حویلی کا بیشتر رقبہ تجاوزات کی نذر ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حویلی کے اردگرد مچھلی اور سبزیوں کے ٹھیلوں کی وجہ سے کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ حویلی پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہے اور حکومت کو اسے محفوظ کرنا چاہیے۔ ان کی رائے میں اس حویلی کو ایک ٹورسٹ پوائنٹ میں تبدیل کر کے سکھ یاتریوں کی توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ حویلی کے اندرونی و بیرونی مناظر ملاحظہ کریں اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان