عدت میں نکاح کا کیس ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا، ڈیل کی نہ کروں گا، عمران خان

ہفتہ 3 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ معدت میں نکاح کا کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا مگر میں نے کوئی ڈیل کی نہ کروں گا۔

اڈیالہ جیل میں عدت میں نکاح کے کیس میں فیصلہ سنائے جانے کے بعد صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں عمران خان نے کہاکہ مر جاؤں گا مگر ڈیل نہیں کروں گا، مجھے توشہ خانہ میں بھی وہ سزا سنائی گئی جو کسی کو بھی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ مجھ پر 200 کیسز بنائے گئے ہیں، آج تک پاکستان میں اتنے کیسز کسی کے خلاف نہیں بنے۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا، جے آئی ٹی بنی لیکن سب کیسز ختم کردیے گئے۔

عمران خان نے کہاکہ شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے کا مضبوط کیس تھا جسے ختم کیا گیا، الیکشن آیا تو ہمارے لوگوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔

انہوں نے نوازشریف کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایک شخص باہر سے آگیا ہے جو ان کی نوکری کرے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی سول عدالت نے عمران خان بشریٰ بی بی کا عدت میں کیا گیا نکاح غیر شرعی قرار دیتے ہوئے دونوں کو 7،7 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا، 3 ماہ میں کتنی ٹرانزیکشنز ہوئیں؟

ٹی 20 ورلڈ کپ: آؤٹ ہونے پر پاکستانی بیٹر گل فیروزہ کا غصہ، سرزنش اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا

وینزویلا کے زلزلے سے پہلے اینڈرائیڈ فونز نے صارفین کو خبردار کیا، یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا