قائد ن لیگ اور ان کے بھائی و بھتیجے نے شیر کی بجائے عقاب پر ٹھپہ لگانے کا فیصلہ کیوں کرلیا؟

منگل 6 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پورے پاکستان میں شیر پر ٹھپہ لگانے کی مہم چلانے والے ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف، ان کے بھائی میاں محمد شہباز شریف اور بھتیجے حمزہ شہباز خود عقاب پر مہر  لگائیں گے۔

یہ  دلچسپ صورتحال اس لیے پیش آرہی ہے کیوں کہ میاں نوازشریف، میاں شہباز شریف  اور حمزہ شہباز کا ووٹ حلقہ  128 ماڈل ٹاؤن میں رجسٹرڈ ہے اور لاہور کے اس حلقے میں ن لیگ کی استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ ہوگئی ہے۔

اس سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ن لیگ کا قومی حلقے کی اس سیٹ پر امیدوار ہی نہیں ہے اور یہ حلقہ اس وقت استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار عون چودھری کا ہے جن کا انتخابی نشان عقاب ہے اور جنہیں ن لیگ کی سپورٹ حاصل ہے۔

اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ سابق وزرائے اعظم میاں نوازشریف، میاں شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب  حمزہ شہباز شریف  8 فروری کو قومی اسمبلی کی سیٹ پر  استحکام پاکستان پارٹی کے عون چودھری کو ووٹ ڈالیں گے۔

تاہم شیر پر مہر لگانے کا فریضہ وہ صوبائی اسمبلی کے ن لیگی امیدورارں کے ناموں کے آگے مہر لگا کر سرانجام دے سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا