نئی یہودی بستیاں بنانے کے اسرائیلی اعلان پر امریکا اور روس کا ردعمل کیا ہے؟

جمعرات 29 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی قوانین، قرار دادیں، سب مسترد، کرتے ہوئے اسرائیل کا نئی یہودی بستیاں بنانے کے اعلان پر امریکا نے کہا کہ واشنگٹن یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھتا ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے ایک بار پھر بین الاقومی قوانین، قرار دادوں اور دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ یہودی بستیوں کی مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیرات جاری رہے گی۔ اسرائیلی وزیر خزانہ اور یہودیوں کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ سموٹریچ نے منگل کے روز نئی یہودی بستیوں کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کے نئے اعلان کے مطابق یہودی بستی کو مشمار یہودا کے نام سے غوش عتصمون کے علاقے میں یروشلم کے جنوب میں پہلے سے موجود یہودی بستیوں کے گڑھ میں ہوگی۔ سموٹریچ نے کہا مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری کا کام بھی جاری رہے گا۔

’پورے ملک میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری رکھیں گے‘۔

واضح رہے چند دن پہلے اسرائیلی حکومت نے پہلے سے موجود یہودی بستیوں میں مزید 33ہزار نئے یہودیوں کو لاکر آباد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، اور نئے گھر 3 مختلف یہودی بستیوں میں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے نئے بیان سے واضح ہے کہ ایک جانب پرانی یہودی بستیوں میں توسیع کا کام جاری ہے اور دوسری جانب نئی یہودیوں بستیوں کی منظوری دی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا بھی بظاہر اسرائیل کی ان یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ واشنگٹن یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھتا ہے لیکن اس سے قبل بھی امریکا اپنے بیانات سے پیچھے ہٹ چکا ہے، جیسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دیرینہ امریکی موقف سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

لیکن دوسری جانب روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل خلاف قانون جا کر نئی بستیاں قائم کرنا چاہتا ہے تو اسرائیل یہ کبھی بھی نہیں کر سکے گا۔ روسی میڈیا کے مطابق ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے زور دے کر کہا کہ وزارت نے غزہ پر اسرائیل کے منصوبے کو پیش کرنے والی پوری دستاویز نہیں دیکھی، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یہ فلسطینیوں کے لیے موجودہ بین الاقوامی قانونی بنیادوں سے متصادم ہے۔

’تاریخ ثابت کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تصفیے پر کوئی بھی اقدام اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کے خلاف جاتا ہے تو وہ ناکام ہی ہوا ہے‘۔

زاخارووا نے غزہ میں پائیدار جنگ بندی کے قیام کو ترجیحی کام قرار دیا اور کہا کہ یہ فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے جامع حل کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔

تاہم، فلسطینیوں کا موقف بڑاواضح ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع دونوں ہی اسرائیل کی اس لیے پالیسی ہیں کہ اس کے نتیجے میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے وجود میں آنے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ مگریہ صورت حال فلسطینیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یونیورسٹی آف لاہور نے آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمنز فٹبال چیمپیئن شپ جیت لی

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟