پی ٹی آئی نے حکومت سے مفاہمت پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

منگل 12 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت سے مفاہمت کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے اور اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما سینیٹر علی ظفر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت مفاہمت چاہتی ہے تو 10 متنازع حلقوں کے انتخابی نتائج کا آڈٹ کرایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ کہ اس کے علاوہ تحریک انصاف کی خواتین قیدیوں کی رہائی یقینی بنائی جائے، اور ہمیں احتجاج کی اجازت دی جائے جو ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت یہ تمام اقدامات کر لے تو معیشت، صحت، تعلیم اور سیکیورٹی معاملات پر تعاون کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی سیاستدانوں سمیت اہم ادارے بھی سیاسی استحکام چاہتے ہیں تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ چل سکے۔

2018 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں جو سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا تھا وہ اب تک ختم نہیں ہو سکا، بلکہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

عوام کو امید تھی کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت بہتر ہونے کی صورت میں مشکلات کم ہوں گی، مگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘