سینیٹ کی کن نشستوں کے لیے کل انتخاب ہوگا؟

پیر 1 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ کو پارلیمنٹ کا ایوان بالا کہا جاتا ہے، قومی اسمبلی کا منظور کردہ کوئی بھی قانون یا بل سینیٹ سے منظور ہوئے بغیر نافذ العمل نہیں ہوسکتا، یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے وہ اہم نمائندے جو عام انتخابات میں کامیاب نہیں ہوپاتے انہیں سینیٹ کے ذریعے پارلیمنٹ کا حصہ بناتی ہیں تاکہ قانون سازی میں ان اہم شخصیات کو شامل رکھا جاسکے۔

اس وقت سینیٹ آف پاکستان میں ارکان کی مجموعی تعداد 100 ہے، جبکہ 11 مارچ 2024 کو سینیٹ کے 52 ارکان اپنی 6 سالہ مدت پوری کر کے ریٹائر ہو گئے ہیں، جس کے بعد 48 نئے سینیٹرز کا انتخاب 2 اپریل کو ہونا تھا جس میں قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیاں اپنے کوٹے کے سینیٹرز کو منتخب کرنا تھا۔

سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 147 افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم پنجاب اور بلوچستان کی 18 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں، بلوچستان اور پنجاب کی 7، 7 جنرل نشستوں، 2 ٹیکنوکریٹ اور 2 خواتین کی نشستوں پر سینیٹرز بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

کل ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اب 30 نشستوں پر 59 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک، پنجاب کی 2 خواتین، 2 ٹیکنوکریٹ اور ایک غیر مسلم نشست پر انتخاب ہو گا، اس کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا کی 7،7 جنرل نشستوں، 2،2 خواتین اور 2،2 ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر انتخاب ہو گا، جبکہ سندھ کی غیر مسلم نشست پر بھی انتخاب ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا