عمران خان کی پیشی،اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

جمعہ 17 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہفتے کو جوڈیشل کمپلیکس  کورٹ نمبر ایک میں پیشی کے موقع پر اسلام آباد میں اسلحہ لے کر چلنے پرپابندی عائد کردی گئی اور اسلام آباد پولیس نے ٹریفک پلان جاری کردیاہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے لہٰذا سیکیورٹی گارڈز سمیت کسی بھی شخص کے اسلحہ لے کر گھومنے پرپابندی عائد ہے اور اس کے علاوہ سفر کی صورت میں گاڑی کے کاغذات ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جی 10ون اور جی الیون ون  کی طرف غیر ضروری نقل وحرکت سے گریزکریں۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آج کورٹ نمبرا یک میں پیش ہونا ہے تو ایسے میں انتظامیہ کی جانب سے تمام ترسیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں کیوں کہ اس سے قبل عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی تھی جس پر ذمہ داران کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

وی ایکسکلوسیو: عالمی بحران میں پاکستان بڑی مسلم طاقت کے طور پر ابھرا ہے، مشاہد حسین

خیبرپختونخوا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم، کیا برف پگھل رہی ہے؟

ویڈیو

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

کالم / تجزیہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ