ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے والے سیدال خان ناصر کون ہیں؟

منگل 9 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے لیے ایوان بالا کا اجلاس آج طلب کیا گیا تھا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ اور مسلم لیگ ن کے سیدال خان ناصر بلا مقابلہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ اس وقت سیاسی حلقوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ سیدال خان ناصر کون ہیں؟

سیدال خان ناصر کا تعلق پشتون کے معتبر قبیلے ناصر سے ہے ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب سے ہے۔ سیدال خان ناصر کوئٹہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

سیدال نے 80 کی دہائی میں عوامی نیشنل پارٹی کے طلبا وونگ سے عملی سیاست کا آغاز کیا جس کے بعد 90 کی دہائی میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں فعال ورکر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ مسلم لیگ نواز میں سیدال خان ناصر مختلف عہدوں پر فائز رہے وہ صوبائی نائب صدر اور مرکزی جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر بھی پارٹی میں اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

سیدال خان ناصر کو 2016 میں وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی برائے سیاسی امور مقرر کیا گیا تاہم حالیہ سینیٹ انتخابات میں وہ مسلم لیگ ن کی ٹکٹ سے بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

 سیدال خان ناصر کا مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف سے قریبی تعلق ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور ایک منرل کمپنی کے مالک ہیں۔

سیدال خان ناصر نے سنہ 1996 میں پارٹی کے طلبا ونگ مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن (ایم ایس ایف) کے کوئٹہ چیپٹر میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 2002 تک پہلے مرکزی جنرل سیکریٹری اور پھر صوبائی صدر کے طور پر وہاں رہے۔ وہ گزشتہ 2 دہائیوں سے ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے ہیں۔

وہ ن لیگ کے ان چند رہنماؤں میں سے ایک کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں جنہوں نے سنہ 1999 میں بغاوت کے بعد احتجاج کیا۔

سیدال خان ناصر نے عملی سیاست کا زیادہ وقت ن لیگ کے ساتھ گزارا ہے تاہم پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟