متحدہ عرب امارات نے طوفان اور سیلاب کی وجہ سے معطل ایئر لائنز سروسز بحال کر دیں

ہفتہ 20 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں رواں ہفتے کے اوائل میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں اور طوفان کی وجہ سے تعطل کا شکار دبئی کی فلیگ شپ ایئرلائن ایمریٹس اور ذیلی ایئرلائن فلائی دبئی نے معمول کی پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ایمریٹس ایئرلائن کے صدر ٹم کلارک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منگل کے روز دبئی کے صحرائی شہر میں ریکارڈ طوفان کے نتیجے میں تقریباً 400 پروازیں منسوخ اور متعدد تاخیر کا شکار ہوئیں۔

ہفتہ کے روز کی صبح تک ہماری باقاعدہ پروازوں کا شیڈول بحال کر دیا گیا ہے۔ مسافر پہلے ہوائی اڈے کے ٹرانزٹ علاقے میں پھنسے ہوئے تھے وہ اب اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکتے ہیں۔

ٹم کلارک نے مزید کہا کہ ’ ہمیں دوبارہ بکنگ مسافروں اور سامان کے بیک لاگ کو ختم کرنے میں مزید کچھ دن لگیں گے اور ہم اپنے کسٹمرز کو صبر کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایمریٹس ایئر لائن نے متاثرہ صارفین کو 12,000 ہوٹل کے کمرے اور 250,000 کھانے کے واؤچر فراہم کیے ہیں۔

فلائی دبئی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فلائی دبئی بھی موسم کی شدت کے باعث پروازوں کے تعطل کے بعد ہفتہ کے روز سے ہوائی اڈے کے ٹرمینل 2 اور ٹرمینل 3 سے اپنی مکمل پروازوں کے شیڈول کا آغاز کر دیا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان سے مختلف ایئرلائنز کی پروازیں دبئی کا سفر کر رہی ہیں۔

طوفان کے اثرات کے باعث ایئرلائن نے دبئی سے روانہ ہونے والے مسافروں کا چیک ان معطل کردیا تھا اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے ٹرانزٹ آپریشن روک دیا تھا جس کے باعث ہزاروں مسافر پھنس گئے تھے۔

ادھر دبئی حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے ہوائی اڈے کے رن ویز پر پانی بھر جانے کے بعد ہوائی اڈے کو معمول کی کارروائیوں میں واپس آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے پروازوں کا رخ موڑنا، تاخیر اور منسوخی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

متحدہ عرب امارات کو کئی دنوں سے سیلاب کا سامنا ہے، شہر اور ابوظہبی کے درمیان سڑکیں ہفتہ تک جزوی طور پر زیر آب ہیں۔ ابوظہبی میں کچھ سپر مارکیٹس اور ریستورانوں کو مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ماہرین نے دبئی میں منگل کے طوفان جیسے شدید موسمی واقعات کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے زیادہ درجہ حرارت، نمی میں اضافہ اور خلیجی خطے کے کچھ حصوں میں سیلاب کا زیادہ خطرہ آئندہ بھی رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں طوفانی بارشوں سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کی کمی انہیں سیلاب کے شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

97 سالہ خاتون نے  ہوائی جہاز کے پروں پر کھڑے ہو کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ